بدھ, فروری 11, 2026
ہومپاکستانپاکستان ریلویز میں ایک سال سے کم عرصے میں 95 حادثات ریکارڈ

پاکستان ریلویز میں ایک سال سے کم عرصے میں 95 حادثات ریکارڈ
پ

اسلام آباد (مشرق نامہ) – سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ریلویز کو یکم جنوری سے 20 دسمبر 2025 کے دوران مجموعی طور پر 95 ٹرین حادثات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایکسپریس نیوز کو دستیاب معلومات میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال ریلوے نظام دہشت گردی، پٹری سے اترنے کے واقعات، تصادم اور سیلاب سے متعلق نقصانات جیسے سنگین مسائل سے دوچار رہا، جبکہ بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری محدود سطح تک ہی ممکن ہو سکی۔

اعداد و شمار کے مطابق رپورٹ ہونے والے حادثات میں 46 مسافر ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے واقعات اور 43 مال بردار ٹرینوں کے حادثات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ٹرین میں آگ لگنے کا واقعہ اور لیول کراسنگز پر دو حادثات بھی ریکارڈ کیے گئے، جن میں ایک بغیر پھاٹک اور دوسرا باقاعدہ پھاٹک والی کراسنگ پر پیش آیا۔

سیکیورٹی خدشات خاص طور پر بلوچستان میں نمایاں رہے، جہاں جعفر ایکسپریس اور ریلوے ٹریکس کو تخریبی کارروائیوں میں آٹھ مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔

اہم واقعات میں 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس پر حملہ شامل ہے۔ 21 مئی کو شالیمار ایکسپریس سیانوالہ دارالاحسان کے قریب ایک بغیر پھاٹک لیول کراسنگ پر اینٹوں سے لدے ٹرالی سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں ٹرین کے تمام 15 ڈبے پٹری سے اتر گئے۔ 30 مئی کو رحمان بابا ایکسپریس ایک اور بغیر پھاٹک کراسنگ پر ٹرالی سے ٹکرا گئی، جبکہ یکم جون کو مبارک پور کے قریب پاکستان ایکسپریس اس وقت بڑے حادثے سے بال بال بچی جب ایک ٹرالی اس کے ڈائننگ کار کے نیچے سے گزر گئی۔

14 جون کو ایک ہی دن میں تین مختلف واقعات پیش آئے۔ خوشحال خان خٹک ایکسپریس کے چھ ڈبے کندھ کوٹ کے قریب پٹری سے اتر گئے، علامہ اقبال ایکسپریس کو دوران سفر بریک بلاک میں خرابی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ تھل ایکسپریس ایک کار سے ٹکرا گئی۔

چار دن بعد جیکب آباد کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکے کے باعث جعفر ایکسپریس کے پانچ ڈبے پٹری سے اتر گئے، جسے حکام نے ٹرین پر دوسرا بڑا حملہ قرار دیا۔

اگست میں لاہور اور راولپنڈی کے درمیان ٹریک ٹوٹنے کے باعث اسلام آباد ایکسپریس کے چھ ڈبے پٹری سے اتر گئے، جس کے نتیجے میں 30 مسافر زخمی ہوئے۔ 17 اگست کو عوام ایکسپریس لودھراں کے قریب حادثے کا شکار ہوئی، جبکہ 29 اگست کو پڈعیدن کے قریب ایک مال بردار ٹرین پٹری سے اتر گئی۔ 11 ستمبر کو رینالہ خورد کے قریب دو مال بردار ٹرینوں کے تصادم میں ایک اسسٹنٹ ڈرائیور جاں بحق اور ایک ریلوے ملازم زخمی ہو گیا۔

ان حادثات کے نتیجے میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو لاکھوں روپے کا مالی نقصان پہنچا، متعدد ڈبے ناقابلِ مرمت ہو گئے اور تصادم کے واقعات میں کئی انجن تباہ ہو گئے۔

ریلوے حکام اور مسافروں کے مطابق 2025 کے دوران ٹرینوں کی آمد و رفت مسلسل تاخیر کا شکار رہی، جہاں لاہور سمیت بڑے اسٹیشنوں سے ٹرینیں گھنٹوں تاخیر سے روانہ ہوتی رہیں۔

اگرچہ بعض اسٹیشنوں پر عمارتوں اور انتظار گاہوں کی بہتری اور وائی فائی سہولیات متعارف کرائی گئیں، تاہم حکام نے تسلیم کیا کہ سال کے دوران پٹریوں، سگنلنگ نظام اور حفاظتی انفراسٹرکچر کی جدید کاری میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین