بدھ, فروری 11, 2026
ہومپاکستانامریکی ٹیرف سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ممکن

امریکی ٹیرف سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ممکن
ا

لاہور (مشرق نامہ) – پاکستان امریکن شکاگولینڈ چیمبر آف کامرس کے ایک وفد نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کا دورہ کیا اور چیمبر کے صدر فہیم الرحمٰن سیگل سے ملاقات کی۔

اس موقع پر ایل سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ امریکا پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں گزشتہ سال برآمدات کا حجم تقریباً چھ ارب ڈالر رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا کے ٹیرف اسٹرکچر سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تو پاکستان اپنی برآمدات کو دس ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان اب تک زیادہ تر روایتی برآمدات، بالخصوص ملبوسات، تک محدود رہا ہے، تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی مصنوعات اور شعبوں کو تلاش کیا جائے۔ ان کے مطابق آئی ٹی، معدنیات، زراعت اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں پر توجہ دینا ناگزیر ہے، جنہیں حکومت اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) بھی ترجیح دے رہی ہے۔

ایل سی سی آئی کے صدر نے امریکا میں مقیم پاکستانی برادری کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے کاروباری نیٹ ورکس اور مہارت سے مکمل فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام مشترکہ چیمبرز کے ساتھ رابطہ مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ہنرمند انسانی وسائل کی برآمدات میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جس سے نہ صرف برآمدات بلکہ ترسیلاتِ زر میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق رواں سال ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور توقع ہے کہ سال کے اختتام تک یہ 42 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک ہنرمند افرادی قوت بھیجنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی ترتیب دینا ضروری ہے تاکہ ترسیلاتِ زر میں مزید اضافہ ممکن ہو۔

پاکستان امریکن شکاگولینڈ چیمبر آف کامرس کے صدر نوید انور نے کہا کہ امریکا میں مقیم پاکستانی تاجر پاکستان کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ملکی معاشی استحکام میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی سینیٹ کے نمائندوں سے ہونے والی گفتگو میں پاکستان کی دواسازی صنعت کی مضبوط صلاحیت پر روشنی ڈالی گئی اور اس شعبے میں برآمدات بڑھانے کے مواقع موجود ہیں۔

تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس وقت پاکستان کی کوئی بھی فارماسیوٹیکل کمپنی امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے معیار پر پوری نہیں اترتی، جس کے باعث یہ شعبہ پیچھے رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق ضابطہ جاتی پیچیدگیاں اور معیار کی نگرانی سے متعلق مسائل اس شعبے کے لیے بڑی رکاوٹیں ہیں۔

نوید انور نے مزید کہا کہ بھارت کی دواسازی صنعت پر امریکی ٹیرف عائد ہونے کے بعد پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، لیکن معیار کا مسئلہ اب بھی ایک سنجیدہ چیلنج بنا ہوا ہے۔

وفد میں شامل ڈاکٹر سمیر شفیعی نے کہا کہ امریکا میں سخت ویزا پالیسیوں کے باعث افرادی قوت کی کمی پیدا ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے امریکی کمپنیاں آؤٹ سورسنگ کے متبادل تلاش کر رہی ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان میں ایسی کمپنیوں کے لیے خصوصی سہولت مراکز قائم کیے جائیں، کیونکہ اس شعبے میں نمایاں صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے بعد اپنا سرمایہ باہر منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاری کی آمد متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ضابطہ جاتی مسائل اور کاروبار میں آسانی کے فقدان جیسے عوامل بڑی رکاوٹیں ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین