بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیچین کو پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات میں مسلسل استحکام

چین کو پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات میں مسلسل استحکام
چ

بیجنگ (مشرق نامہ) – جنوری سے نومبر 2025 کے دوران چین کو پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں مجموعی طور پر استحکام اور مزاحمت کا رجحان برقرار رہا، جس کی بنیاد بنیادی ٹیکسٹائل خام مال کی مسلسل طلب اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے بتدریج پھیلاؤ پر رہی۔

چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی سی) کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی اہم کیٹیگریز میں پاکستان کی مجموعی برآمدات تقریباً 488.5 ملین ڈالر رہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کپاس کے دھاگے کی دو نمایاں اقسام سرفہرست برآمدی اشیا میں شامل رہیں، جن میں ایک کی مالیت 205.4 ملین ڈالر رہی جبکہ دوسری کی برآمدات 181.1 ملین ڈالر تک پہنچیں۔

سال کے دوسرے نصف میں برآمدی رفتار مزید مضبوط ہوئی۔ جولائی سے نومبر کے دوران چین کو پاکستانی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 8.69 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ماہانہ بنیادوں پر بھی مسلسل نمو دیکھی گئی، جس میں جولائی میں 14.6 فیصد، اگست میں 17.9 فیصد اور ستمبر میں 19.4 فیصد اضافہ شامل ہے۔

اسی دوران صارفین سے براہِ راست وابستہ متعدد کیٹیگریز، جن میں خواتین کے ملبوسات، گھریلو ٹیکسٹائل اور بعض تیار شدہ ٹیکسٹائل مصنوعات شامل ہیں، میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو چین کے لیے پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات میں تنوع کی جانب پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔

خصوصی طور پر خواتین کے ملبوسات کی برآمدات بڑھ کر 10.3 ملین ڈالر ہو گئیں، جبکہ گھریلو ٹیکسٹائل کی برآمدات 5.3 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس کے علاوہ نسبتاً چھوٹی مگر تیزی سے بڑھتی ہوئی کیٹیگریز میں قالین، بچوں کے ملبوسات اور تیار شدہ ٹیکسٹائل مصنوعات شامل رہیں، جنہوں نے سالانہ بنیاد پر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا، جو چینی منڈی میں نئے مخصوص مواقع کی نشاندہی کرتا ہے۔

ڈائنامک انجینئرنگ اینڈ آٹومیشن انڈسٹری گروپ کے بانی اویس میر کے مطابق چین کو پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات روایتی دھاگہ جاتی مصنوعات میں مضبوطی دکھا رہی ہیں، جبکہ تیار اور نیم تیار مصنوعات کا ایک ابھرتا ہوا مگر ابھی محدود دائرہ بھی سامنے آ رہا ہے، جو چین کی بڑھتی ہوئی ریٹیل تنوع اور ای کامرس پر مبنی طلب سے ہم آہنگ ہے۔

ان کے مطابق خواتین کے ملبوسات اور گھریلو ٹیکسٹائل میں بہتری اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مخصوص منڈیوں میں برانڈ ڈویلپمنٹ، معیار کی بہتری اور خریداروں کے ساتھ شراکت داری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2026 کی جانب دیکھتے ہوئے مسابقتی اقدامات، جن میں مصنوعات کی معیاری سازی، کوالٹی کنٹرول، تیز تر ترسیل اور ماحولیاتی تقاضوں کی پاسداری شامل ہے، کو ترجیح دی جائے گی۔ جدید فنشنگ، رنگائی اور اعلیٰ معیار کی نِٹ ویئر کے شعبوں میں تکنیکی تعاون پاکستان کو ویلیو چین میں آگے بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔

دریں اثنا، تجارتی سرگرمیوں کے علاوہ پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے میں چین اور پاکستان کے درمیان تعاون کو فروغ دیتے ہوئے 19 دسمبر کو پشاور کے گورنمنٹ ایڈوانس ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر میں گانسو فنانس اینڈ ٹریڈ ووکیشنل کالج اوورسیز ٹریننگ بیس اور ایس ایم ای انٹرپرینیورشپ اینڈ مینجمنٹ پاکستان ٹریننگ سینٹر کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت میں قائم یہ مرکز تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون کو فروغ دینے اور تعلیم کو عملی مہارتوں سے جوڑنے کا ہدف رکھتا ہے۔ اس مرکز کے ذریعے پاکستانی نوجوان طلبہ اپنے ہی خطے میں رہتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، انٹرپرینیورشپ اور ڈیجیٹل مہارتوں سے متعلق جدید تربیت حاصل کر سکیں گے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین