بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیبنگلہ دیش میں اندرونی بحران اور سفارتی کشیدگی میں شدت

بنگلہ دیش میں اندرونی بحران اور سفارتی کشیدگی میں شدت
ب

ڈھاکہ (مشرق نامہ) – طلبہ رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد بنگلہ دیش کو اندرونی بدامنی اور بیرونی سفارتی دباؤ، دونوں محاذوں پر سنگین بحران کا سامنا ہے۔ ڈھاکہ نے نئی دہلی میں اپنے ہائی کمیشن میں تمام قونصلر اور ویزا خدمات تاحکمِ ثانی معطل کر دی ہیں، جبکہ ملک کے اندر گرفتاریوں، صحافیوں کے احتجاج اور عبوری حکومت کے خلاف ممکنہ تحریک کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

بنگلہ دیشی مشن کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ ناگزیر حالات کے باعث نئی دہلی میں تمام قونصلر اور ویزا خدمات عارضی طور پر معطل کی جا رہی ہیں اور اس سے ہونے والی کسی بھی زحمت پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ اقدام نئی دہلی میں سفارتی مشن کے باہر 20 سے 25 افراد کے احتجاج کے دو دن بعد سامنے آیا۔ بنگلہ دیش کے خارجہ امور کے مشیر توحید حسین کے مطابق مظاہرین کی جانب سے بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ریاض حمیداللہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

تاہم بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ مشن کی سکیورٹی کی خلاف ورزی کی کوئی کوشش نہیں ہوئی اور پولیس نے چند منٹوں میں مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ ان کے مطابق مظاہرین بنگلہ دیش میں گارمنٹس ورکر دیپو چندرا داس کے قتل کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور اقلیتوں کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے تھے۔

دوسری جانب کشیدگی کے جواب میں بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ میں بھارتی ویزا درخواست مرکز نے سکیورٹی خدشات کے باعث اپنی سرگرمیاں معطل کر دیں۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ہائی کمشنرز کو طلب بھی کیا ہے۔ بنگلہ دیشی اخبار دی ڈیلی اسٹار کے مطابق یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تناؤ بحران کی صورت اختیار کر رہا ہے، اور اس پر زور دیا گیا کہ دہلی اور ڈھاکہ کو کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

عبوری حکومت کو درپیش خطرات

ملک میں بدامنی کی جڑ شریف عثمان ہادی کے قتل سے جڑی ہے، جو گزشتہ سال جمہوریت نواز تحریک کے اہم رہنما تھے، اسی تحریک کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ اقتدار سے ہٹیں اور بعد ازاں بھارت میں پناہ لی۔ ہادی کو رواں ماہ کے آغاز میں نقاب پوش مسلح افراد نے گولیاں ماریں اور وہ جمعرات کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

ان کی ہلاکت کے بعد شدید احتجاج شروع ہوا، جس دوران مشتعل ہجوم نے کئی عمارتوں کو آگ لگا دی، جن میں ملک کے دو بڑے اخبارات دی ڈیلی اسٹار اور پروتھوم الو کے دفاتر بھی شامل تھے، جنہیں بعض مظاہرین بھارت نواز سمجھتے ہیں۔

طلبہ تنظیم انقلاب منچو نے پیر کے روز عبوری حکومت کو ہادی کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسے ہٹانے کی تحریک کی دھمکی دی۔ تنظیم نے داخلہ امور کے مشیر، ان کے خصوصی معاون اور قانون کے مشیر سے فوری استعفوں کا مطالبہ کیا، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ وہ سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہے۔

تنظیم کے رکن سیکریٹری عبداللہ الجابر کے مطابق انصاف کی فراہمی سے قبل انتخابات نہیں ہونے دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک قاتلوں کو سزا نہیں ملتی، کارکن سڑکوں پر موجود رہیں گے اور مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں حکومت گرا دی جائے گی۔ تنظیم نے ایف بی آئی یا اسکاٹ لینڈ یارڈ جیسے اداروں کے ذریعے بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

قانون کے مشیر عاصف نذرل نے جواب میں اعلان کیا کہ قتل کے مقدمے کو اسپیڈی ٹرائل ٹریبونل میں چلایا جائے گا اور پولیس رپورٹ جمع ہونے کے 90 دن کے اندر فیصلہ متوقع ہے۔

صحافیوں کا احتجاج اور جان کے خطرات

دوسری جانب ڈھاکہ میں صحافیوں نے پیر کے روز انسانی زنجیر بنا کر میڈیا دفاتر پر حملوں اور دھمکیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ میڈیا رہنماؤں کے مطابق صورتحال محض آزادیٔ اظہار کے مباحث سے نکل کر صحافیوں کی جان کے خطرے تک پہنچ چکی ہے۔

دی ڈیلی اسٹار کے ایڈیٹر اور پبلشر محفوظ انعام کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات سامنے آئے ہیں جن میں دی ڈیلی اسٹار اور پروتھوم الو کے صحافیوں کو گھروں میں تلاش کر کے قتل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو محض اختلافِ رائے نہیں بلکہ براہِ راست قتل کی دھمکیاں ہیں۔

انہوں نے یہ بات ایڈیٹرز کونسل اور نیوز پیپر اونرز ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش کے زیرِ اہتمام مشترکہ احتجاج کے دوران کہی، جس کا عنوان بنگلہ دیش پر ہجوم کے تشدد کا حملہ رکھا گیا تھا۔

نیشنل سٹیزن پارٹی کے کنوینر نہید اسلام نے کہا کہ ان حملوں میں حکومت کے ایک حصے کے ملوث ہونے اور سیاسی پشت پناہی کے شواہد موجود ہیں، اور یہ پورا واقعہ منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا گیا۔

اے کے آزاد کے مطابق آتش زنی کے دوران دی ڈیلی اسٹار کے دفتر میں تقریباً 28 صحافی پھنسے رہے اور مدد کی اپیلیں حملہ ختم ہونے کے بعد ہی سنی گئیں، حالانکہ سکیورٹی فورسز موقع پر موجود تھیں مگر مداخلت نہیں کی گئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جنوری کے وسط میں ملک بھر کے صحافیوں کی کانفرنس منعقد کی جائے گی اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

نیو ایج کے ایڈیٹر نورالکبیر کے مطابق حملہ آور قتل کے ارادے سے آئے تھے، انہوں نے دفاتر کو آگ لگائی اور فائر سروس کو اندر داخل ہونے سے روکا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اختلافِ رائے کی بنیاد پر لوگوں کو زندہ جلانے کی کوشش کی گئی۔

گرفتاریاں اور وسیع تر تشدد

پولیس کے مطابق اخبارات پر حملوں کے سلسلے میں 17 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے ایڈیشنل کمشنر ایس این نذر الاسلام کے مطابق چار سے پانچ ہزار مظاہرین کے باوجود جانی نقصان نہ ہونا پولیس کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات نے صورتحال کو مزید بھڑکایا۔

فروری میں متوقع عام انتخابات کے پیش نظر ملک بھر کی سیاسی قیادت نے بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپوزیشن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر کے مطابق اس وقت خود جمہوریت پر حملہ ہوا ہے اور تمام جمہوری قوتوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

بدامنی کے وسیع تر تناظر میں ایک اور واقعہ بھی سامنے آیا، جس میں نیشنل سٹیزن پارٹی کے رہنما محمد مطیلب شکدار کو کھلنا میں فائرنگ کر کے زخمی کر دیا گیا، جس کے بعد بارڈر گارڈ بنگلہ دیش نے بیناپول سرحد پر نگرانی سخت کر دی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین