واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکا نے پاکستان کے ایف-16 جنگی طیاروں کے بیڑے کی اپ گریڈیشن کے لیے 686 ملین ڈالر کے پیکج کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فروخت آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ اور سالانہ مختص قوانین کے تحت موجود اختیارات کے مطابق مکمل کی گئی، جن کے تحت کانگریس کو باضابطہ اطلاع کے بعد اعتراض نہ ہونے کی صورت میں فنڈز جاری کیے جا سکتے ہیں۔
ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے پاکستان کی درخواست کی منظوری دیتے ہوئے ہارڈویئر، سافٹ ویئر اپ گریڈز اور سسٹینمنٹ سپورٹ پر مشتمل فارن ملٹری سیل کی منظوری دی اور اس فیصلے سے امریکی کانگریس کو آگاہ کیا۔ امریکی قانون کے مطابق اس منظوری کا مطلب کانگریسی نگرانی سے استثنا نہیں ہوتا، کیونکہ اطلاع کے بعد کانگریس کے پاس 30 دن کی لازمی مدت ہوتی ہے جس میں اعتراض یا فروخت روکنے کے لیے قرارداد پیش کی جا سکتی ہے۔ مقررہ مدت میں اعتراض نہ ہونے کی صورت میں فروخت کو کانگریسی منظوری حاصل تصور کیا جاتا ہے۔
یہ طریقہ کار امریکی اسلحہ منتقلی کے قانونی ڈھانچے کا حصہ ہے، جس کے تحت ڈی ایس سی اے فارن ملٹری سیلز اور فارن ملٹری فنانسنگ جیسے پروگرامز کے ذریعے ایسے معاہدات کا انتظام کرتی ہے۔ ان پروگرامز میں عموماً خریدار ملک کے اپنے وسائل یا پہلے سے منظور شدہ امریکی قرضے یا گرانٹس شامل ہوتے ہیں، جیسا کہ پاکستان کے ایف-16 پیکج کے معاملے میں ہوا۔
اپ گریڈ پیکج کی تفصیلات
کانگریس کی ویب سائٹ پر شائع نوٹیفکیشن کے مطابق یہ مجوزہ فروخت پاکستان کے بلاک-52 اور مڈ لائف اپ گریڈ ایف-16 طیاروں کی سروس لائف کو 2040 تک بڑھانے اور امریکا و اتحادی افواج کے ساتھ آپریشنل ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ہے۔ مجموعی رقم میں سے 37 ملین ڈالر بڑے دفاعی آلات کے لیے مختص ہیں، جبکہ 649 ملین ڈالر سسٹینمنٹ، ری فربشمنٹ اور جدید کاری کی خدمات پر خرچ ہوں گے۔
پیکج میں 92 لنک-16 ٹیکٹیکل ڈیٹا لنک سسٹمز اور انضمام و جانچ کے لیے چھ غیر فعال ایم کے-82 پانچ سو پاؤنڈ بم باڈیز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایویونکس اپ گریڈز، محفوظ مواصلاتی و نیویگیشن آلات، کرپٹوگرافک ڈیوائسز، مشن پلاننگ ٹولز اور سافٹ ویئر و ہارڈویئر میں تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔
تربیتی نظام، اسلحہ جاتی جانچ اور ری پروگرامنگ آلات اور متعلقہ اسپیئر پارٹس بھی پیکج کا حصہ ہیں۔ حساس اجزا میں موڈ-5 شناختی نظام، ہینڈ ہیلڈ کی لوڈرز اور اسلحہ کے بلٹ اِن ٹیسٹ فنکشنز کے لیے ری پروگرامنگ آلات شامل ہیں، جن میں سے بعض اشیا خفیہ درجہ بندی کی حامل ہیں۔
پاکستان نے ایف-16 اپ گریڈز کی درخواست پہلی مرتبہ 2021-22 میں دی تھی۔ ڈی ایس سی اے نے اس تجویز کی مسلسل حمایت کی، تاہم اس وقت بائیڈن انتظامیہ نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔ دسمبر 2024 میں ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا مگر پیش رفت نہ ہو سکی۔ بعد ازاں دسمبر 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ کے تحت نئی نوٹیفکیشن کانگریس کو بھیجی گئی، جس پر مقررہ مدت میں کوئی اعتراض سامنے نہ آیا اور یوں فروخت امریکی قانون کے مطابق منظور ہو گئی۔
امریکی مؤقف
ڈی ایس سی اے کے مطابق یہ فروخت امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کی حمایت کرتی ہے، کیونکہ اس سے پاکستان کی امریکا اور شراکت دار افواج کے ساتھ آپریشنل ہم آہنگی برقرار رہے گی۔ ادارے کے مطابق یہ تعاون انسداد دہشت گردی کی جاری کوششوں کو مضبوط بنانے اور آئندہ ہنگامی کارروائیوں کی تیاری میں مدد دے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایف-16 بیڑے کی مرمت اور اپ گریڈیشن سے پرواز کی سلامتی سے متعلق اہم خدشات دور ہوں گے اور پاکستان ایئر فورس اور امریکی فضائیہ کے درمیان جنگی آپریشنز، مشقوں اور تربیت کے دوران انضمام اور ہم آہنگی بہتر ہوگی۔ امریکی حکام کے مطابق پاکستان ان آلات اور خدمات کو بغیر کسی مشکل کے جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس فروخت سے خطے میں بنیادی عسکری توازن متاثر نہیں ہوگا۔
یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پاکستان میں اضافی امریکی سرکاری یا کنٹریکٹر عملے کی ضرورت نہیں ہوگی اور اس سے امریکی دفاعی تیاریوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ امریکی حکومت کے مطابق مجوزہ فروخت کے ساتھ کسی آف سیٹ معاہدے کی معلومات نہیں ہیں اور اگر ایسا کوئی انتظام ہو تو وہ پاکستان اور متعلقہ کنٹریکٹر کے درمیان طے پائے گا۔

