بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان اور لیبیا کے درمیان اربوں ڈالر کا اسلحہ معاہدہ

پاکستان اور لیبیا کے درمیان اربوں ڈالر کا اسلحہ معاہدہ
پ

کراچی (مشرق نامہ) – پاکستان نے لیبیا کی مسلح افواج کے ساتھ روایتی ہتھیاروں کی فروخت کا ایک بڑا معاہدہ طے کر لیا ہے، جس کے تحت پاکستان ایک محدود فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو روایتی عسکری سازوسامان برآمد کرنے والے ممالک پر مشتمل ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چار ارب ڈالر سے زائد مالیت کا یہ معاہدہ، جو پاکستان کی تاریخ کے بڑے اسلحہ جاتی سودوں میں شمار ہوتا ہے، لیبیا کی نیشنل آرمی کو ہتھیاروں کی فراہمی پر مشتمل ہے۔

حکام کے مطابق یہ معاہدہ گزشتہ ہفتے مشرقی لیبیا کے شہر بن غازی میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور لیبیا نیشنل آرمی کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف صدام خلیفہ حفتر کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد حتمی شکل اختیار کر گیا۔

اگرچہ وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع اور عسکری قیادت نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا، تاہم عسکری ذرائع نے اس معاہدے کو حجم اور مالی اثرات کے اعتبار سے تاریخی قرار دیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق معاہدے کے مسودے میں، جو حتمی منظوری سے قبل دیکھا گیا، پاکستان اور چین کے اشتراک سے تیار کردہ جے ایف-17 جنگی طیاروں اور بنیادی پائلٹ تربیت کے لیے استعمال ہونے والے سپر مشاق طیاروں کی خریداری شامل ہے۔ ایک پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ یہ معاہدہ زمینی، بحری اور فضائی سازوسامان کی فراہمی پر مشتمل ہے، جو تقریباً ڈھائی سال کی مدت میں مکمل ہوگا، اور اس میں جے ایف-17 طیارے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ 2011 سے اقوامِ متحدہ نے لیبیا پر اسلحہ کی پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کے تحت ہتھیاروں اور متعلقہ مواد کی منتقلی کے لیے اقوامِ متحدہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ تاہم پاکستانی عسکری حکام کا مؤقف ہے کہ کئی مغربی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک طویل عرصے سے اس پابندی کے باوجود لیبیا کو اسلحہ اور عسکری سامان فراہم کرتے آ رہے ہیں۔

ان حکام کے مطابق یہ پابندی عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکی ہے اور پاکستان کا یہ اقدام وزیرِ اعظم اور آرمی چیف کے اس وژن سے ہم آہنگ ہے جس کا مقصد برآمدات پر مبنی خود کفیل معیشت کا قیام ہے۔

لیبیا میں اس وقت سیاسی تقسیم برقرار ہے، جہاں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومتِ وحدتِ قومی وزیرِ اعظم عبدالحمید دبیبہ کی قیادت میں مغربی لیبیا کے بڑے حصے کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ حفتر کی نیشنل آرمی مشرقی اور جنوبی علاقوں، بشمول اہم تیل کے ذخائر، پر قابض ہے اور حکومتِ وحدتِ قومی کو تسلیم نہیں کرتی۔

رائٹرز کے مطابق لیبیا میں 2011 کی نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے بعد جاری عدم استحکام کے باعث، جس کے نتیجے میں معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ ہوا، نیشنل آرمی کے ساتھ کسی بھی اسلحہ معاہدے کو سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لیبیا نیشنل آرمی کے سرکاری میڈیا چینل نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ اس نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے ایک معاہدے میں شمولیت اختیار کی ہے، جس میں اسلحہ کی فروخت، مشترکہ تربیت اور عسکری پیداوار شامل ہے، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اس موقع پر صدام حفتر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک عسکری تعاون کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ بن غازی کی حکام نے بھی رائٹرز کی تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

پاکستان طویل عرصے سے دفاعی برآمدات میں توسیع کی کوشش کر رہا ہے، جہاں انسدادِ شورش میں دہائیوں کے تجربے اور مقامی دفاعی صنعت کی بنیاد پر فضائی جہازوں کی تیاری و مرمت، بکتر بند گاڑیوں، اسلحہ سازی اور بحری تعمیرات جیسے شعبے شامل ہیں۔ عسکری قیادت کے مطابق بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ نے پاکستان کی جدید عسکری صلاحیتوں کو عالمی سطح پر نمایاں کیا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین