بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیدنیا کی سب سے بڑی ہوابازی کمپنی نے سکیورٹی خدشات کے باعث...

دنیا کی سب سے بڑی ہوابازی کمپنی نے سکیورٹی خدشات کے باعث گوگل کو چھوڑ دیا
د

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ایئربس نے امریکی دائرۂ اختیار سے جڑے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے حساس نظاموں کو ایک یورپی خودمختار کلاؤڈ میں منتقل کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

یورپی ایرو اسپیس کارپوریشن ایئربس نے گوگل کی کلاؤڈ سروسز سے اپنے اہم ڈیجیٹل نظام منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق یہ فیصلہ سکیورٹی اور ڈیٹا خودمختاری سے متعلق خدشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جو حساس صنعتی معلومات پر امریکی دائرۂ اختیار سے جڑے ہوئے ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گوگل کو امریکا میں اپنی اے آئی اسسٹنٹ جیمنی (Gemini) سے متعلق مبینہ پرائیویسی خلاف ورزیوں پر ایک اجتماعی (کلاس ایکشن) مقدمے کا سامنا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ٹول اکتوبر میں خاموشی سے جی میل، چیٹ اور میٹ میں فعال کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں صارفین کی اجازت کے بغیر ای میلز، منسلک فائلوں اور ویڈیو کالز تک رسائی حاصل کی گئی۔ تاہم گوگل نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ایئربس اب ایک بڑے معاہدے کے لیے ٹینڈر جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت انتہائی اہم نوعیت کے ڈیجیٹل کام ایک خودمختار یورپی کلاؤڈ میں منتقل کیے جائیں گے۔ کمپنی، جو اس وقت گوگل ورک اسپیس استعمال کرتی ہے، اپنے ڈیٹا سینٹرز کو یکجا کرنے کے بعد کلیدی آن پریمیس (on-premises) نظام منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

یہ منتقلی بنیادی نظاموں پر محیط ہوگی، جن میں پیداوار، کاروباری انتظام اور طیاروں کے ڈیزائن سے متعلق ڈیٹا شامل ہے۔ ایئربس کے مطابق صرف 80 فیصد امکان ہے کہ کوئی یورپی فراہم کنندہ اس کی تکنیکی اور قانونی ضروریات پوری کر سکے گا۔

ایئربس کی ایگزیکٹو نائب صدر برائے ڈیجیٹل، کیتھرین جیسٹین نے دی رجسٹر کو بتایا:

“مجھے ایک خودمختار کلاؤڈ درکار ہے کیونکہ معلومات کا ایک حصہ قومی اور یورپی نقطۂ نظر سے انتہائی حساس ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ معلومات یورپی کنٹرول میں ہی رہیں۔”

50 ملین یورو (تقریباً 58.5 ملین ڈالر) سے زائد مالیت کا یہ ٹینڈر جنوری کے آغاز میں متوقع ہے، جبکہ حتمی فیصلہ گرمیوں سے پہلے کیا جائے گا۔ ایئربس، جو گزشتہ چھ برسوں سے عالمی سطح پر طیاروں کے آرڈرز کی دوڑ میں سبقت رکھتا آیا ہے، نے اس ماہ کے اوائل میں اعتراف کیا تھا کہ اس سال اس کا امریکی حریف بوئنگ اسے پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔

ایئربس کے چیف ایگزیکٹو گیوم فاؤری نے کہا کہ بوئنگ کو تجارتی مذاکرات کے دوران سیاسی حمایت حاصل رہی، جن میں بڑے پیمانے پر طیاروں کی خریداری بھی شامل تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عوامی طور پر بوئنگ کی فروخت میں اضافے کا کریڈٹ اپنے نام کیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں کہا کہ بوئنگ نے انہیں “بوئنگ کی تاریخ کے سب سے بڑے سیلز مین” ہونے پر ایک اعزاز بھی دیا ہے

مقبول مضامین

مقبول مضامین