مانئڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)چینی کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کے آخر میں بیجنگ کی ڈی ڈالرائزیشن (ڈالر سے انحصار کم کرنے) کی کوششوں کے تناظر میں قیمتی دھات کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔
چین نے نومبر میں روس سے سونے کی ریکارڈ مقدار خریدی، جس کی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ خبر ریانووستی نے چینی کسٹمز ڈیٹا کے حوالے سے دی۔
اطلاع کے مطابق، نومبر میں روس کی جانب سے چین کو فروخت کیے گئے سونے کی مالیت 961 ملین ڈالر رہی، جبکہ اکتوبر میں یہ حجم 930 ملین ڈالر تھا۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس مغربی پابندیوں کے باعث اپنی قیمتی دھاتوں کی برآمدات کو مغربی منڈیوں سے ہٹا کر دیگر مقامات کی طرف منتقل کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے، اور چین ایک اہم خریدار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر اور نومبر میں روس نے چین کو کوئی سونا برآمد نہیں کیا تھا، اور اس سے قبل سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ مالیت صرف 223 ملین ڈالر رہی تھی۔ کسٹمز ڈیٹا کے مطابق، 2025 کے پہلے 11 ماہ میں چین کی جانب سے روسی سونے کی درآمدات 1.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً نو گنا زیادہ ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، روس کی مجموعی قیمتی دھاتوں کی چین کو برآمدات بھی ایک سال میں دگنی ہو چکی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی اصل خریداری کا حجم سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ بلومبرگ کے اندازے کے مطابق، 2025 کے پہلے نصف میں روس کی چین کو قیمتی دھاتوں کی برآمدات تقریباً ایک ارب ڈالر تھیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس میں سونے کا حصہ کتنا تھا۔
فنانشل ٹائمز نے نومبر میں رپورٹ کیا تھا کہ چین کی غیر رپورٹ شدہ سونے کی خریداری سرکاری اعداد و شمار سے دس گنا سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ملک خاموشی سے امریکی ڈالر سے دوری اختیار کر رہا ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، چین نے جنوری سے ستمبر تک 23.95 ٹن سونا خریدا، مگر تجزیہ کاروں کے مطابق اصل خریداری اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ چین ڈالر میں موجود ذخائر پر انحصار کم کر رہا ہے۔
فروری 2022 میں یوکرین تنازع میں شدت آنے کے بعد روس اور چین کے درمیان تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو “بغیر کسی حد کے اسٹریٹجک شراکت داری” قرار دیتے ہیں، اور مسلسل تیسرے سال ان کی باہمی تجارت کا حجم 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ ماسکو اور بیجنگ نے باہمی تجارت میں مغربی کرنسیوں کا استعمال تقریباً ختم کر دیا ہے، اور اب زیادہ تر ادائیگیاں روبل اور یوآن میں کی جا رہی ہیں

