بدھ, فروری 11, 2026
ہومپاکستانٹی ٹی اے پی کا 8 فروری کو ملک گیر پہیہ جام...

ٹی ٹی اے پی کا 8 فروری کو ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان
ٹ

اسلام آباد (مشرق نامہ) – تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے غیرجانبدار چیف الیکشن کمشنر کی فوری تقرری کا مطالبہ کرتے ہوئے نئی الیکشن کمیشن کے تحت آزاد اور شفاف انتخابات کرانے پر زور دیا ہے۔ یہ مطالبات اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ قومی مشاورتی کانفرنس میں پیش کی گئی آرا اور تجاویز کی روشنی میں سامنے آئے۔ فورم نے 8 فروری کے انتخابات کی دوسری برسی کو یومِ سیاہ کے طور پر منانے، ملک گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے اور عالمی سطح پر بھرپور احتجاج کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ان کے مطابق اسی روز ایک ناجائز نظام قائم کیا گیا تھا۔

عوامی رابطہ مہم کے لیے نائب چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر، ڈاکٹر امجد، علی اصغر، حلیم عادل شیخ، زین شاہ اور دیگر پر مشتمل مرکزی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو صوبائی اور ضلعی سطح پر ذیلی کمیٹیاں تشکیل دے گی۔ اعلامیے کے مطابق تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان تمام صوبائی دارالحکومتوں میں قومی مشاورتی کانفرنسیں منعقد کرے گی اور وکلا تنظیموں، سول سوسائٹی اور عوام کے ساتھ فعال رابطے کے ذریعے آئین، قانون اور جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد باوقار انداز میں آگے بڑھائے گی۔

دو روزہ قومی مشاورتی کانفرنس میں ملک بھر سے سیاسی و سماجی حلقوں کی بھرپور نمائندگی دیکھنے میں آئی۔ کانفرنس کے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوریت کی عمارت شفاف انتقالِ اقتدار، یعنی انتخابات، پر قائم ہوتی ہے۔ ان کے مطابق غیرقانونی بنیادوں پر کھڑی کی گئی کسی بھی عمارت کو کتنا ہی خوش نما کیوں نہ بنایا جائے، وہ عوام اور عالمی اصولوں کی نظر میں غیرقانونی ہی رہتی ہے۔ اس بنیادی غلطی کی اصلاح اور عوامی اعتماد کی بحالی صرف آزاد و منصفانہ انتخابات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ٹی ٹی اے پی نے غیرجانبدار نئے چیف الیکشن کمشنر کی فوری تقرری، نئی الیکشن کمیشن کے تحت شفاف انتخابات، اور 8 فروری 2024 کے انتخابات میں مبینہ بدترین دھاندلی کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین و سزا کا مطالبہ کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ عدلیہ کے ستون کو بے رحمی سے منہدم کیا گیا اور اس کی جگہ قائم کیے گئے غیرمعمولی نظام نے انصاف اور قانون کو پارہ پارہ کر دیا۔ 26ویں اور پھر 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے ججوں کے تبادلوں کی تلوار کے تحت عدلیہ کی خودمختاری سلب کی گئی۔ اعلامیے کے مطابق ضمیر رکھنے والے جج، جن میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا شامل ہیں، اس ادارے کو الوداع کہنے پر مجبور ہوئے، جبکہ باقی رہ جانے والوں کو بھی کنارے لگانے کے انتظامات کیے گئے، جس کی تازہ مثال اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق جہانگیری ہیں۔ فورم نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے جسٹس جہانگیری سے اظہارِ یکجہتی کیا اور 1973 کے اصل آئین کے مطابق عدلیہ کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

اعلامیے میں تحریکِ انصاف کے قائد عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف ’’جھوٹے مقدمات‘‘ میں سنائی گئی سزاؤں اور عمران خان کی بہنوں کے ساتھ روا رکھے گئے غیرانسانی سلوک، بشمول بالوں سے گھسیٹنے اور کیمیائی واٹر کینن کے استعمال، کی شدید مذمت کی گئی۔ فورم نے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، جن میں عمران خان، بشریٰ بی بی، شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری، یاسمین راشد، سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید، صاحبزادہ حمید رضا، علی وزیر، حاجی عبدالصمد، ولی مومند اور دیگر افراد شامل ہیں، نیز عمران خان سے ملاقات پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ قومی کانفرنس نے جی ڈی اے کے مرتضیٰ جتوئی اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے زین شاہ کے خلاف درج مبینہ جھوٹے مقدمات اور مورو شہر میں سیاسی احتجاج کے دوران پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

کانفرنس نے اظہارِ رائے کو دبانے اور میڈیا کی آزادی محدود کرنے والے پیکا قانون کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اعلامیے میں ڈان ٹی وی کو معاشی طور پر نشانہ بنانے کو قابلِ تشویش اور قابلِ مذمت قرار دیا گیا، صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف مبینہ من گھڑت منشیات کیس کی مذمت کی گئی اور اس نظام میں روزگار سے محروم ہونے والے صحافیوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر علی ہادی ایڈووکیٹ کے خلاف مقدمات کی بھی مذمت کی گئی۔

اعلامیے میں غزہ پیس فورس سے متعلق پاکستان کی مسلح افواج کے کردار پر سامنے آنے والے بیانات اور شواہد کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے شفافیت کی کمی پر تحفظات ظاہر کیے گئے اور کسی بھی فیصلے سے قبل قوم کو اعتماد میں لینے پر زور دیا گیا، جبکہ کسی یکطرفہ فیصلے کو مسترد کیا گیا۔

اتحاد کے مطابق معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جبر اور جبری گمشدگیوں کی مذمت کی گئی اور ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر بلوچ قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال تشویشناک ہے اور صوبائی اسمبلی میں منعقدہ جرگے کے متفقہ مطالبات پر فوری عمل درآمد کیا جائے، جبکہ وفاق صوبے کے واجب الادا بقایاجات فوری طور پر ادا کرے۔ اس کے ساتھ ہی پشتون تحفظ موومنٹ پر عائد پابندی ختم کرنے، لاپتہ افراد کو قانون کے سامنے لانے اور فورتھ شیڈول میں شامل ناموں کے اخراج کا مطالبہ کیا گیا تاکہ ملک میں سیاسی ہم آہنگی فروغ پا سکے۔

تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے، سرحدی بندشوں کے خاتمے اور تجارتی راستوں کی بحالی پر زور دیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت معدنیات متعلقہ صوبوں کی ملکیت ہیں اور صوبوں کے عوام سے مشاورت کے بغیر بین الاقوامی کان کنی کے معاہدے آئین اور اٹھارویں ترمیم کی روح کے خلاف ہیں۔ عوامی رضامندی کے بغیر صوبوں کی تاریخی جغرافیائی حدود میں کسی بھی تبدیلی کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔

تحریک نے ملک بھر میں طلبہ یونینز کی فوری بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔

کانفرنس نے اس امر پر اتفاق کیا کہ جمہوریت میں مکالمے اور گفتگو کے دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہئیں۔ شرکا کے مطابق ملک کو آج پہلے سے کہیں زیادہ نئے میثاقِ جمہوریت کی ضرورت ہے اور اپوزیشن جماعتیں آئین کی اصل شکل میں مکمل بحالی کے لیے آمادہ ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین