اسلام آباد (مشرق نامہ) – چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ کسی بھی اسلامی ریاست میں جہاد کے اعلان یا فتویٰ جاری کرنے کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہوتا ہے، کسی فرد یا گروہ کو یہ حق نہیں۔
میڈیا کو اتوار کے روز جاری کیے گئے بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ خیالات 10 دسمبر کو منعقدہ قومی علما و مشائخ کانفرنس سے خطاب کے دوران ظاہر کیے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی پشت پناہی سے دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ افغانستان سے آنے والی فتنہ الخوارج کی تشکیل پانے والی تنظیموں میں تقریباً 70 فیصد عناصر افغان باشندوں پر مشتمل ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ فتنہ الخوارج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہے یا پاکستان کے ساتھ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطاب میں ملک کو درپیش چیلنجز، دہشت گردی، قومی سلامتی کے مسائل، عالمی سطح پر پاکستان کے ابھرتے کردار، جنگی تیاریوں اور علم کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کو ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستِ طیبہ اور پاکستان کے درمیان گہرا اور نظریاتی ربط موجود ہے۔ ان کے مطابق ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان دونوں کی بنیاد کلمۂ طیبہ کے اصولوں پر رکھی گئی اور دونوں کا قیام ماہِ رمضان میں عمل میں آیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ ریاستِ اسلام اور ریاستِ پاکستان کا قیام مبارک مہینے رمضان میں ہوا اور ان دونوں ریاستوں کے درمیان مماثلت کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حرمین شریفین کی خدمت اور حفاظت کی ذمہ داری عطا کی۔ ان کے مطابق تمام اسلامی ممالک میں پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ حرمین شریفین کا محافظ ہے۔
انہوں نے بھارت کے ساتھ مئی میں ہونے والی جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص کے دوران اللہ کی خصوصی مدد کا مشاہدہ کیا، جس کے تناظر میں انہوں نے قرآنِ کریم کی آیات بھی پیش کیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ وہ اقوام جو اپنے اسلاف کی علمی و فکری وراثت اور علم کے حصول کو ترک کر دیتی ہیں، بالآخر زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔
قومی علما و مشائخ کانفرنس میں ملک بھر سے تمام مکاتبِ فکر کے ممتاز مذہبی علما اور مشائخ نے شرکت کی۔

