بدھ, فروری 11, 2026
ہومپاکستاناسموگ کے باعث سپر فلو اور وائرل امراض میں تشویشناک اضافہ

اسموگ کے باعث سپر فلو اور وائرل امراض میں تشویشناک اضافہ
ا

لاہور (مشرق نامہ) – پنجاب بھر میں، بالخصوص صوبائی دارالحکومت لاہور میں، اسموگ کے باعث سپر فلو، انفلوئنزا اور دیگر وائرل بیماریوں کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ فضائی آلودگی کے باعث فلو، کھانسی، سینے کے انفیکشن، نمونیا اور بخار کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران لاہور کے پانچ بڑے سرکاری اسپتالوں میں 47 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔ اس دوران مایو اسپتال میں 10 ہزار سے زائد، جناح اسپتال میں 9 ہزار سے زیادہ، سروسز اسپتال میں 8 ہزار سے زائد جبکہ جنرل اسپتال، چلڈرن اسپتال اور گنگارام اسپتال میں مجموعی طور پر 6 ہزار سے زائد مریض سامنے آئے۔

طبی ماہرین کے مطابق سپر فلو کی عام علامات میں نزلہ، زکام، کھانسی، تیز بخار اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ بچوں اور بزرگوں میں نمونیا کے کیسز میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد سپر فلو سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور دائمی امراض میں مبتلا افراد زیادہ خطرے سے دوچار ہیں، اس لیے انہیں خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو ماسک کے باقاعدہ استعمال اور فلو ویکسین لگوانے کی سخت ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کوئی بھی سرکاری بی ایس ایل تھری (BSL-3) لیبارٹری اس وقت انفلوئنزا وائرس کے ٹیسٹ نہیں کر رہی، جبکہ پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے پاس جدید انفلوئنزا ویرینٹ H3N2 کی تشخیص کے لیے کٹس بھی دستیاب نہیں، جو ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین