بغداد (مشرق نامہ) – صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اتوار کے روز گورنمنٹ پیلس میں عراق کے نگراں وزیراعظم محمد شیاع السودانی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے اور باہمی دلچسپی کے ترجیحی شعبوں میں عملی اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
صدرِ مملکت نے اپنے دورے کے دوران عراقی حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور پارلیمانی انتخابات کے عمل کی تکمیل پر عراقی عوام کو مبارک باد دی۔ انہوں نے عراق میں سیاسی انتقالِ اقتدار کے ہموار عمل اور ترقیاتی کوششوں کے تسلسل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
صدر زرداری نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان عراق کے ساتھ اپنے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور باقاعدہ، نتیجہ خیز اور منظم طریقۂ کار کے تحت دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے عراقی حکومت کے ساتھ قریبی اشتراک جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اعلیٰ سطحی روابط کا تسلسل دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔
ملاقات میں اقتصادی تعاون کو نمایاں اہمیت دی گئی۔ صدرِ مملکت نے نشاندہی کی کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیتوں کی عکاسی نہیں کرتا اور اس حوالے سے عملی نتائج کے حصول کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت و غذائی تحفظ، تعمیرات، دواسازی اور ادویات سمیت اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تجارت، کاروباری روابط اور زائرین کی آمد و رفت میں سہولت کے لیے براہِ راست بینکاری ذرائع کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
صدر زرداری نے بغداد میں پاکستان کی جانب سے تجارتی اور صحت سے متعلق اہم نمائشوں میں شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سرگرمیاں کاروبار سے کاروبار روابط کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے ایوانہائے تجارت اور نجی شعبے کے درمیان باقاعدہ تبادلوں اور آن لائن روابط کے ذریعے قریبی ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کی۔
دفاعی تعاون کے حوالے سے صدرِ مملکت نے جاری تربیتی پروگراموں اور مکمل ہونے والی دفاعی ترسیلات سمیت دوطرفہ پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور عراق کی ضروریات اور بدلتی سلامتی صورتحال کے مطابق دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اعادہ کیا۔
صدر زرداری نے عراق کی تعمیرِ نو میں پاکستان کی جانب سے ہنرمند افرادی قوت، طبی ماہرین اور مالیاتی خدمات و ڈیجیٹل گورننس میں تکنیکی مہارت فراہم کرنے کی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے افرادی قوت کی ترسیل سے متعلق موجودہ فریم ورک کو منظم اور فلاحی بنیادوں پر تعیناتی کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔
ملاقات میں عراق جانے والے پاکستانی زائرین سے متعلق امور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ صدرِ مملکت نے زائرین مینجمنٹ سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی جلد تکمیل پر زور دیا اور امیگریشن مقامات پر سہولیات میں بہتری، ہنگامی سفری معاملات میں لچک اور حقیقی زائرین کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
عراقی نگراں وزیراعظم نے پاکستان کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں فریقین نے ادارہ جاتی ذرائع کے ذریعے رابطے برقرار رکھنے اور ایسے تعاون کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا جو دونوں ممالک کے لیے واضح اور عملی فوائد کا باعث بنے۔
ملاقات میں سینیٹر شیری رحمٰن، سینیٹر سلیم منڈی والا، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان اور عراق میں پاکستان کے سفیر صدرِ مملکت کے ہمراہ تھے۔

