بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیواشنگٹن کی کاراکاس پر دباؤ مہم میں تیزی، امریکا نے وینزویلا کے...

واشنگٹن کی کاراکاس پر دباؤ مہم میں تیزی، امریکا نے وینزویلا کے قریب ایک اور تیل بردار جہاز روک لیا
و

دنیا(مشرق نامہ): امریکی افواج نے وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک اور تیل بردار جہاز کو روک لیا ہے۔ یہ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں دوسری ایسی کارروائی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی سخت گیر مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق، ہفتے کی علی الصبح کی گئی اس کارروائی میں امریکی کوسٹ گارڈ نے وزارتِ جنگ کی معاونت سے ایک ایسے تیل بردار جہاز کو روکا جو آخری بار وینزویلا کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا تھا۔

محکمۂ داخلی سلامتی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے اس کارروائی کی تصدیق کی اور غیر خفیہ ویڈیو فوٹیج جاری کی، جس میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو جہاز پر اہلکار اتارتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس جہاز کی شناخت سینچوریز (Centuries) کے نام سے کی گئی ہے۔

یہ خام تیل بردار جہاز پاناما کے جھنڈے تلے سفر کر رہا تھا اور میرین ٹریفک کے جہازوں کی نگرانی کے ڈیٹا کے مطابق حال ہی میں وینزویلا کے ساحل کے قریب دیکھا گیا تھا۔ امریکی حکام نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ آیا خود یہ جہاز امریکی پابندیوں کی زد میں تھا یا نہیں۔

کرسٹی نوم نے کہا کہ یہ کارروائی واشنگٹن کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد

“پابندیوں کے تحت آنے والے تیل” کی نقل و حرکت کو روکنا ہے، جس کے بارے میں امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اسے خطے میں

“منشیات سے جڑی دہشت گردی” کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا:

“امریکا پابندیوں کے شکار تیل کی غیر قانونی نقل و حرکت کا پیچھا کرتا رہے گا۔ ہم آپ کو تلاش کریں گے، اور ہم آپ کو روکیں گے۔”

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی

“باہمی رضامندی سے جہاز پر چڑھنے (consented boarding)” کے تحت کی گئی۔

یہ تازہ اقدام صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جو انہوں نے رواں ماہ کے اوائل میں کیا تھا، جس میں انہوں نے وینزویلا جانے اور وہاں سے آنے والے

“پابندی زدہ تیل بردار جہازوں” کے خلاف ایک طرح کی

“ناکابندی” کی بات کی تھی۔

یہ کارروائی اس واقعے کے چند دن بعد ہوئی ہے جب 10 دسمبر کو امریکی افواج نے وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک اور تیل بردار جہاز اسکپر (Skipper) کو ضبط کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے بارہا تیل کے اثاثوں پر مبینہ تنازعات اور منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات کو کاراکاس پر دباؤ بڑھانے کے جواز کے طور پر پیش کیا ہے۔

اس ہفتے انہوں نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کو ان اثاثوں کو واپس کرنا ہوگا جو برسوں قبل امریکی تیل کمپنیوں سے

“ضبط” کیے گئے تھے، اور کہا کہ انہی نقصانات نے انہیں وینزویلا سے منسلک تیل کی ترسیل کے خلاف اقدامات پر آمادہ کیا۔

امریکی تیل کمپنیاں 1970 کی دہائی میں قومیانے کی مہم سے قبل وینزویلا کے پیٹرولیم شعبے پر غالب تھیں۔

یہ تیل بردار جہازوں کو روکنے کی کارروائیاں ایک وسیع تر امریکی فوجی مہم کے ساتھ جاری ہیں، جو کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں جاری ہے۔ اس مہم کے تحت ٹرمپ انتظامیہ نے ان جہازوں پر حملوں کے احکامات دیے ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ فینٹینائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

ستمبر کے اوائل سے اب تک، 28 معلوم حملوں میں کم از کم 104 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان کارروائیوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور حتیٰ کہ کانگریس کے بعض ارکان نے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے اس بات کے محدود شواہد فراہم کیے ہیں کہ نشانہ بنائے گئے جہاز واقعی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھے، اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ حملے

“عدالتی کارروائی کے بغیر ہلاکتوں” کے مترادف ہیں۔

امریکا نے حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑی تعداد میں جنگی بحری جہاز بھی تعینات کیے ہیں، جو کئی نسلوں میں وہاں کی سب سے بڑی فوجی تعیناتی سمجھی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے بارہا خبردار کیا ہے کہ زمینی کارروائیاں بھی اس کے بعد کی جا سکتی ہیں۔

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کا اصل مقصد انہیں اقتدار سے ہٹانا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین