بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیاردن میں حزب اللہ کے حامی صحافی کی گرفتاری، کوئی وجہ نہیں...

اردن میں حزب اللہ کے حامی صحافی کی گرفتاری، کوئی وجہ نہیں بتائی گئی
ا

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)اردنی حکام نے حزب اللہ کے حامی صحافی محمد فرج کو حراست میں لے لیا ہے، تاہم ان کی گرفتاری کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی ان کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں، حالانکہ بارہا پوچھ گچھ کی گئی۔

محمد فرج، جو لبنانی ٹیلی وژن نیوز چینل المیادین کے لیے سیاسی پروگراموں کے میزبان اور دستاویزی فلموں کے پروڈیوسر کے طور پر کام کرتے ہیں، اپنی اہلیہ اور صحافی رانا ابی جمعہ کے ساتھ چھٹیاں گزارنے اردن واپس آئے تھے، جہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

یہ جوڑا گزشتہ جمعے کو عمان کے کوئین عالیہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچا، جہاں داخلے کے وقت اردنی حکام نے محمد فرج کو روک لیا۔

انہیں سخت تلاشی اور تفتیش کے بعد ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

فرج کے اہلِ خانہ کو بتایا گیا تھا کہ انہیں جلد رہا کر دیا جائے گا، مگر تاحال نہ تو انہیں رہا کیا گیا ہے اور نہ ہی ان پر کسی قسم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان کی قانونی حیثیت یا موجودہ مقام کے بارے میں بھی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

المیادین کے مطابق، ان کی حالت کے بارے میں دستیاب تمام معلومات محض سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں، کیونکہ اہلِ خانہ کو بارہا درخواستوں کے باوجود ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

اردن کی متعدد سیاسی اور ثقافتی تنظیموں نے محمد فرج کی حراست کی مذمت کی ہے۔ محمد فرج عرب نیشنل کانفرنس کے رکن بھی ہیں، اور ان تنظیموں نے اس اقدام کو عوامی آزادیوں اور صحافیوں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ایک بیان میں اردنی پاپولر نیشنل فرنٹ نے محمد فرج کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سچ، انصاف اور فلسطینی کاز کے دفاع میں اپنے اصولی مؤقف کے لیے جانے جاتے ہیں۔

فرنٹ کے مطابق، محمد فرج کو تقریباً ایک ہفتہ قبل بیروت سے عمان پہنچنے پر ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا، تاہم گرفتاری کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

اردنی کمیونسٹ پارٹی اور اردنی نیشنل پاپولر فرنٹ نے بھی اس حراست کی مذمت کرتے ہوئے اسے بنیادی حقوق اور قانونی ضمانتوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور محمد فرج کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

یہ گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب اردن اسرائیل کے ساتھ اپنی رسمی سفارتی اور سکیورٹی تعاون کو جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ تل ابیب مقبوضہ مغربی کنارے پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر رہا ہے۔

اسرائیلی حکومت نومبر 2024 میں طے پانے والی جنگ بندی کی بھی بارہا خلاف ورزی کر رہی ہے اور جنوبی لبنان کے پانچ مقامات پر بدستور قابض ہے۔

یاد رہے کہ جولائی میں برطانیہ میں قائم خبر رساں ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا تھا کہ اردنی حکام نے 1989 کے بعد فلسطین کے حق میں سرگرمیوں کے خلاف اپنی سب سے بڑی کریک ڈاؤن مہم چلائی، جس کے دوران غزہ سے اظہارِ یکجہتی کرنے پر سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا یا ان سے تفتیش کی گئی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین