بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی اہلکاروں پر حملے کے بعد امریکا نے شام میں داعش کے...

امریکی اہلکاروں پر حملے کے بعد امریکا نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کر دی
ا

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)گزشتہ ہفتے داعش کے ایک جنگجو کے حملے میں تین امریکی ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکا نے جمعہ کی رات شام میں درجنوں فضائی حملے کیے، جو گزشتہ ہفتے تین امریکیوں کی ہلاکت کے جواب میں کیے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو فوجی اور ایک شہری مترجم شامل تھا۔

امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ان حملوں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس کارروائی کو “آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک” کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد داعش کے جنگجوؤں، ان کے ڈھانچے اور اسلحہ کے مراکز کو نشانہ بنانا ہے۔ یہ کارروائی 13 دسمبر کو شام کے شہر پالمیرا میں امریکی فورسز پر ہونے والے حملے کے براہِ راست جواب میں کی گئی۔

انہوں نے خبردار کیا:

“یہ کسی جنگ کا آغاز نہیں ہے، بلکہ یہ انتقام کا اعلان ہے۔”

ہیگستھ نے مزید لکھا:

“اگر آپ دنیا میں کہیں بھی امریکیوں کو نشانہ بنائیں گے تو آپ اپنی مختصر اور خوف زدہ زندگی کا باقی وقت یہ جانتے ہوئے گزاریں گے کہ امریکا آپ کا تعاقب کرے گا، آپ کو تلاش کرے گا اور بے رحمی سے مار دے گا۔ آج ہم نے اپنے دشمنوں کا شکار کیا اور انہیں ہلاک کیا — بہت سوں کو۔ اور ہم یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔”

دوسری جانب شامی حکومت نے وزارتِ خارجہ کے بیان میں داعش کے خلاف لڑائی کے عزم کو دہرایا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر کہا کہ شامی صدر احمد الشرع،

“ایک ایسے شخص ہیں جو شام کو دوبارہ عظمت دلانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں… اور وہ اس کارروائی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔”

امریکا۔شام مشترکہ گشت

گزشتہ ایک سال کے دوران امریکا نے شامی فورسز کے ساتھ مل کر داعش کے ارکان کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں۔

چھ دن قبل امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے بتایا تھا کہ شام میں داعش کے ایک جنگجو نے امریکی اہلکاروں پر گھات لگا کر حملہ کیا۔

سینٹ کام کے مطابق، وسطی شام کے علاقے پالمیرا میں امریکی فوجیوں پر فائرنگ کی گئی، جس کے بعد فوری جوابی کارروائی کی گئی اور حملہ آور کو ہلاک کر دیا گیا۔

پینٹاگون نے بتایا کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب امریکی فوجی پالمیرا میں مقامی رہنماؤں کے ساتھ ایک اجلاس کر رہے تھے، جو زمینی سطح پر مشن کے دوران درپیش خطرات کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکا کے خصوصی ایلچی برائے شام ٹام باراک نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے

“بزدلانہ دہشت گردانہ گھات” قرار دیا، جس میں امریکا اور شام کے مشترکہ گشت کو نشانہ بنایا گیا۔

بعد ازاں شامی وزارتِ داخلہ نے حملہ آور کو شامی سیکیورٹی فورسز کا رکن قرار دیا، جس پر داعش سے ہمدردی رکھنے کا شبہ تھا۔

فی الحال شمالی شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں کے لیے تقریباً 1,000 امریکی فوجی تعینات ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین