اقوامِ متحدہ (مشرق نامہ) – پاکستان نے لیبیا میں سیاسی بحران کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کے معاون مشن برائے لیبیا (یو این ایس ایم آئی ایل) کی جانب سے پیش کردہ سیاسی روڈ میپ کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں پائیدار امن کے لیے لیبیائی قیادت اور لیبیائی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کو ہی واحد قابلِ عمل راستہ سمجھا جائے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندے سفیر عثمان جدون نے جمعے کے روز سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یو این ایس ایم آئی ایل کے تحت پیش کیا گیا سیاسی روڈ میپ قومی مفاہمت کو آگے بڑھانے اور عبوری دور کے خاتمے کی جانب پیش رفت کے لیے ایک بروقت اور قابلِ اعتماد موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق صدر معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کو تقریباً پندرہ برس گزرنے کے باوجود لیبیا تاحال دو متوازی انتظامیہ میں منقسم ہے، جن میں ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومتِ قومی اتحاد ہے جو مغربی دارالحکومت طرابلس میں قائم ہے، جبکہ دوسری مشرقی شہر بن غازی میں قائم حکومتِ قومی استحکام ہے۔
سفیر عثمان جدون نے واضح کیا کہ پاکستان کا اصولی مؤقف ایک بنیادی یقین پر قائم ہے کہ پائیدار امن اور استحکام کی جانب واحد راستہ لیبیائی قیادت اور لیبیائی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل ہی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے یو این ایس ایم آئی ایل کے زیرِ اہتمام سیاسی روڈ میپ کو سراہتے ہوئے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ نیت اور عملی نفاذ کے درمیان اب بھی ایک واضح خلا موجود ہے۔
پاکستانی مندوب نے بتایا کہ یو این ایس ایم آئی ایل نے منظم سیاسی مکالمے کے لیے نامزدگیوں کا عمل شروع کر دیا ہے، اور تمام لیبیائی فریقین پر زور دیا کہ وہ اس نازک مرحلے پر تعمیری انداز میں شریک ہوں تاکہ حاصل شدہ پیش رفت ضائع نہ ہو۔
انہوں نے طرابلس میں کشیدگی کم کرنے اور دوبارہ تصادم کو روکنے کے لیے لیبیائی اور بین الاقوامی فریقین کی ثالثی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نازک امن کو اعتماد سازی کے اقدامات، طے شدہ سیکیورٹی انتظامات پر مکمل عمل درآمد اور سیکیورٹی سیکٹر اصلاحات میں مسلسل پیش رفت کے ذریعے مستحکم کرنا ہوگا۔
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان لیبیائی عوام کی امن، استحکام اور خوشحالی کی امنگوں کو پورا کرنے میں مدد دینے والی تمام کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے، اور اسی مقصد کے تحت سلامتی کونسل کے ارکان اور وسیع تر عالمی برادری کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھے گا۔
اس موقع پر اقوامِ متحدہ کی سیکریٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ برائے لیبیا اور یو این ایس ایم آئی ایل کی سربراہ ہانا سروا ٹیٹہ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ 21 اگست کو پیش کیے گئے سیاسی روڈ میپ پر عمل درآمد خاصا مشکل ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوانِ نمائندگان اور ہائی کونسل آف اسٹیٹ کی جانب سے اعلیٰ قومی انتخابی کمیشن کی ازسرِنو تشکیل پر اتفاق کے باوجود متعدد رابطوں کے بعد بھی یہ عمل مکمل نہ ہو سکا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ انتخابات کے لیے آئینی اور قانونی فریم ورک میں ترمیم بھی تاحال مکمل نہیں ہو سکی، جبکہ صدارتی انتخابات کے مطالبے اور پانچ شہروں میں اس حوالے سے مظاہروں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ہانا ٹیٹہ نے زور دیا کہ سیاسی عمل کو چند اہم سیاسی فریقین کی عدم فعالیت کا یرغمال نہیں بننے دیا جا سکتا، اور خبردار کیا کہ اگر دونوں ادارے سیاسی روڈ میپ کے ابتدائی دو اہداف پر اتفاق میں ناکام رہے تو وہ متبادل طریقۂ کار اختیار کرنے اور اس ضمن میں سلامتی کونسل کی حمایت حاصل کرنے کے لیے تیار ہوں گی۔

