استنبول(مشرق نامہ) – ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ہفتے کے روز پاکستان اور ترکی کے درمیان لازوال برادرانہ رشتے کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کا تعلق تاریخ، ثقافت، دین اور مشترکہ تقدیر میں گہری جڑیں رکھتا ہے اور ان شاء اللہ یہ رشتہ مزید مضبوط ہوتا رہے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان نیوی کے لیے ترکی کے ملجیم منصوبے کے تحت تیار کی جانے والی بابُر کلاس کارویٹ کے دوسرے جہاز پی این ایس خیبر کی حوالگی کی تقریب سے خطاب کے دوران کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔
پی این ایس خیبر کی حوالگی کی تقریب استنبول نیول شپ یارڈ کمانڈ میں منعقد ہوئی، جس میں ترکی کے وزیرِ قومی دفاع یاشار گولر، پاکستان نیوی کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف، ترک بحری افواج کے کمانڈر ایڈمرل ارجومنت تاتلی اوغلو، دفاعی صنعتوں کے ادارے ایس ایس بی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حلوک گورگون اور ترکی میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے شرکت کی۔
صدر اردوان نے ستمبر 2018 میں پاکستان کے ساتھ چار ملجیم کارویٹس کے معاہدے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ مئی 2024 میں پی این ایس بابُر کی کامیاب حوالگی کے بعد اب تمام آزمائشی اور قبولیتی مراحل مکمل ہونے پر پی این ایس خیبر بھی باضابطہ طور پر پاکستان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ باقی دو جہاز ٹیکنالوجی کی منتقلی کے فریم ورک کے تحت کراچی شپ یارڈ میں تعمیر کیے جا رہے ہیں، جن کی فراہمی بالترتیب وسط 2026 اور اوائل 2027 میں متوقع ہے۔
صدر اردوان کے مطابق پاکستان اور ترکی کے تعلقات محض ریاستی سطح کے نہیں بلکہ دو قوموں اور دو بھائیوں کے درمیان مضبوط رشتہ ہیں۔
پاکستان نیوی کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات غیر معمولی نوعیت کے حامل ہیں اور یہ اسٹریٹجک شراکت داری خطے میں استحکام کا ذریعہ ہے، جس کی پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت ہے۔
تقریب کے دوران ترکی کی بحری صلاحیتوں کی جھلک بھی پیش کی گئی، جہاں ترک بحریہ میں تین نئے پلیٹ فارمز شامل کیے گئے، جن میں ٹی سی جی حزر رئیس آبدوز، سی۔159 لینڈنگ شپ اور یو لا ق بغیر پائلٹ سطحی بحری گاڑی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملکی اور برآمدی مقاصد کے لیے آف شور پیٹرول ویسلز کی جاری تعمیر کو بھی اجاگر کیا گیا، جو ترکی کی شپ بلڈنگ، ڈیزائن اتھارٹیز اور سپلائی چین کی پختگی کی عکاسی کرتا ہے۔
صدر اردوان نے نئی کمیشن کی جانے والی آبدوز کی جدید صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن اور جدید سونار نظام سے لیس ہے، جو زیرِ آب دفاعی صلاحیت اور عملی خفیہ کاری کو نمایاں طور پر بہتر بناتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آف شور پیٹرول ویسل ٹی سی جی کوچ حصار مئی 2026 میں ترک بحریہ میں شامل ہو جائے گا، جبکہ اسی منصوبے کے ساتویں جہاز ٹی سی جی سفرحصار کے لیے اسٹیل کٹنگ کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
تقریب میں ترکی کی دفاعی برآمدات میں نمایاں پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا۔ صدر اردوان کے مطابق ترکی اس وقت دنیا کا گیارہواں بڑا دفاعی برآمد کنندہ بن چکا ہے، جس کی دفاعی اور ایرو اسپیس برآمدات 8.6 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ 2028 تک 11 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کا مقصد دفاعی و ہوابازی برآمدات میں عالمی سطح پر ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہونا ہے، جس کے لیے 3,500 سے زائد دفاعی کمپنیاں اور ایک لاکھ سے زیادہ افراد کام کر رہے ہیں۔
تقریب کے دوران ترکی کے نئے طیارہ بردار بحری جہاز کے منصوبے کا بھی اعلان کیا گیا، جو 300 میٹر طویل ہوگا اور ٹی سی جی اناطولیہ سے زیادہ جدید صلاحیتوں کا حامل ہوگا، جس سے ترکی کی بحری فضائی طاقت اور سمندری حدود سے باہر آپریشنل رسائی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
پاکستان کے لیے پی این ایس خیبر کی شمولیت بحری جدید کاری کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔ تقریباً 2,400 ٹن وزن اور 108 میٹر لمبائی کا حامل یہ کارویٹ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، ایڈونٹ جنگی نظام، تھری ڈی ریڈارز، الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز اور مشترکہ ڈیزل و گیس انجن سے لیس ہے، جو اسے 31 ناٹس سے زائد رفتار اور 3,500 بحری میل کی رینج فراہم کرتا ہے۔ یہ جہاز اینٹی سرفیس، اینٹی ایئر اور اینٹی سب میرین جنگی صلاحیتوں میں پاکستان نیوی کو نمایاں تقویت فراہم کرے گا۔
ایک ارب ڈالر سے زائد لاگت کے اس منصوبے کے تحت دو جہاز کراچی میں تیار کیے جا رہے ہیں، جو مقامی شپ بلڈنگ صلاحیتوں کے فروغ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
تقریب نے پاکستان اور ترکی کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کو اجاگر کیا اور اس امر کی نشاندہی کی کہ ترکی بیک وقت مقامی دفاعی صلاحیتوں کے استحکام اور اسٹریٹجک دفاعی برآمدات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

