مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)در جن سے زائد عمارتیں منہدم، 27 ہزار خیمے تباہ — ہنگامی کارکن ہزاروں امدادی کالز پر قابو پانے کی جدوجہد میں مصروف
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران طوفان سے متاثرہ غزہ میں سردی اور عمارتیں گرنے کے باعث کم از کم 11 فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔
طبی ذرائع کے مطابق جمعے کے روز غزہ شہر میں سردی کے باعث دو بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے—نو سالہ حدیل حمدان اور ایک نومولود تیم خواجہ۔
ایک اور بچی، آٹھ ماہ کی رفاح ابو جزر، جمعرات کو خان یونس میں اس وقت جاں بحق ہو گئی جب رات کے طوفان کے دوران بارش کا پانی اس کے خاندان کے خیمے میں داخل ہو گیا۔
شمالی غزہ کے علاقے بیت لاہیا میں سیلاب اور تیز ہواؤں کے باعث ایک متاثرہ مکان منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔
غزہ شہر کے مغرب میں الرمال محلے میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر دیوار گرنے سے مزید دو اموات ہوئیں، جبکہ شمالی غزہ کے الشاطی مہاجر کیمپ میں بھی ایک دیوار گرنے سے ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔
غزہ میں قائم گورنمنٹ میڈیا آفس کے مطابق مجموعی طور پر کم از کم 13 عمارتیں—جو پہلے ہی اسرائیلی بمباری سے جزوی طور پر تباہ تھیں—شدید بارش اور تیز ہواؤں کے باعث منہدم ہو چکی ہیں۔ کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ متعدد زخمی ہیں۔
اسی دوران بے گھر خاندانوں کے 27 ہزار سے زائد خیمے سیلاب اور تیز ہواؤں سے تباہ یا بہہ گئے ہیں۔ بارش، سیلاب اور پناہ گاہوں کے منہدم ہونے سے ڈھائی لاکھ سے زائد بے گھر افراد متاثر ہوئے ہیں۔
وزارتِ داخلہ و قومی سلامتی کے مطابق، طوفان کے آغاز کے بعد سے غزہ بھر میں 4,300 سے زائد ہنگامی کالز موصول ہو چکی ہیں۔
وسائل کی شدید کمی کے باوجود، وزارت کا کہنا ہے کہ سول ڈیفنس کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں اور پولیس لوگوں کی مدد کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں۔
طوفان بائرن اس ہفتے کے آغاز میں فلسطین اور اسرائیل سے ٹکرایا تھا اور جمعے تک اس کے اثرات جاری رہنے کی توقع ہے۔ غزہ کی پٹی میں اس کے اثرات نہایت تباہ کن ثابت ہوئے ہیں، جہاں تقریباً 15 لاکھ افراد خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں، جبکہ باقی 7 لاکھ کے قریب لوگ جزوی طور پر تباہ شدہ عمارتوں میں مقیم ہیں۔
دو سال سے جاری شدید بمباری کے نتیجے میں، جس سے رہائشی عمارتوں کا تقریباً 92 فیصد حصہ تباہ یا متاثر ہوا، اسرائیل نے جنگ سے تباہ حال غزہ میں خیموں اور موبائل گھروں کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔
یہ اقدام اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت اسرائیل کو 3 لاکھ خیموں اور موبائل گھروں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دینی تھی۔
طوفان سے قبل انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور صحت کے حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر پناہ گاہوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہ دی گئی تو بے گھر افراد کو “تباہ کن نتائج” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

