بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیوینزویلا پر امریکی تیل ناکہ بندی: سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس

وینزویلا پر امریکی تیل ناکہ بندی: سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس
و

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)وینزویلا کی جانب سے امریکی تیل ناکہ بندی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دینے کے بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل وینزویلا کی صورتِ حال پر اجلاس کرے گی۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اگلے ہفتے وینزویلا کی صورتحال پر ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی، جب کاراکاس نے وینزویلا کے تیل کی ترسیل کو نشانہ بنانے والی امریکی ناکہ بندی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ بات جمعرات کو کونسل کی صدارت نے تصدیق کی۔

اقوامِ متحدہ میں سلووینیا کے مستقل مشن کی ترجمان لورا مِکلیک نے تصدیق کی کہ یہ اجلاس وینزویلا کی درخواست پر بلایا گیا ہے اور منگل کے روز سہ پہر 3 بجے منعقد ہوگا۔

17 دسمبر کو جاری کردہ ایک بیان میں اقوامِ متحدہ میں وینزویلا کے مستقل مشن نے کہا کہ اس نے سلامتی کونسل سے اس امر پر غور کرنے کی درخواست کی ہے جسے اس نے “وینزویلا کے خلاف امریکی جارحیت” قرار دیا، اور کونسل پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر وینزویلا کی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔

واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان حالیہ مہینوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکا نے کیریبین میں اپنی فوجی تعیناتی میں توسیع کی ہے اور کہا ہے کہ یہ کارروائی لاطینی امریکا میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ہے، جس میں خاص توجہ وینزویلا پر مرکوز ہے۔ تاہم کاراکاس نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے اسے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے دباؤ کی مہم قرار دیا ہے۔

امریکی فوجی طیارے وینزویلا کے ساحل کے قریب بار بار پروازیں کر چکے ہیں، جبکہ منشیات کی اسمگلنگ سے مبینہ طور پر منسلک جہازوں پر حملوں میں 90 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکا نے وینزویلا سے روانہ ہونے والے ایک آئل ٹینکر کو ضبط کر لیا اور بعد ازاں مزید کئی جہازوں پر پابندیوں کا اعلان کیا۔

بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے ان جہازوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا جنہیں انہوں نے “پابندیوں کے شکار تیل بردار جہاز” قرار دیا، جو وینزویلا سے آ جا رہے تھے۔ انہوں نے مادورو حکومت پر الزام لگایا کہ وہ تیل کی آمدنی کو اُن سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے جنہیں انہوں نے “منشیات کی دہشت گردی، انسانی اسمگلنگ، قتل اور اغوا” قرار دیا، اور دعویٰ کیا کہ وینزویلا نے “امریکا کا تیل” ہتھیا لیا ہے۔

وینزویلا نے امریکی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور واشنگٹن پر جنگ کو ہوا دینے اور نوآبادیاتی طرز کی توسیع پسندی اپنانے کا الزام عائد کیا۔

وینزویلا کی وزارتِ دفاع نے بدھ کو کہا کہ ٹرمپ کے بیانات اور اقدامات “کھلی قزاقی” کے مترادف ہیں، اور یہ کہ “منشیات کی دہشت گردی” کے خلاف مہم کا امریکی بیانیہ جھوٹا ہے۔ وزارت کے مطابق اصل مقصد وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی اور ملک کے تیل سمیت دیگر قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔

روسی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو ٹرمپ انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ وینزویلا کے معاملے پر “مہلک غلطیاں” کرنے سے گریز کرے، جن کے پورے مغربی نصف کرے کے لیے غیر متوقع نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

وزارت نے کہا کہ ماسکو مادورو حکومت کی قومی مفادات اور خودمختاری کے دفاع کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ لاطینی امریکا اور کیریبین کو امن کا خطہ رہنا چاہیے

مقبول مضامین

مقبول مضامین