مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ٹرمپ کے دور میں امریکا کی اسرائیل کو امداد جاری ہے، جس پر مالی دباؤ اور خارجہ پالیسی کے اثرات کے باعث میگا (MAGA) تحریک کے اندر تنقید بڑھ رہی ہے۔
کم ہی لوگوں کو توقع تھی کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت میں اسرائیل سے کنارہ کشی اختیار کریں گے، خاص طور پر اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ اپنی پہلی مدت میں وہ مشرقِ وسطیٰ کے اس ملک کے کتنے مضبوط حامی رہے تھے۔
تاہم غزہ میں اسرائیل کی نسل کش جنگ میں مسلسل بڑھتی ہلاکتوں اور اس پر ہونے والی عالمی مذمت کے پیشِ نظر، اسرائیل کی مسلسل اور بھرپور حمایت نے صدر کے اپنے حامی حلقوں میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے۔
ان ناقدین کے نزدیک یہ حمایت اس وقت دوہری طور پر ناگوار ہے جب امریکا کی معیشت ابھی تک مشکلات کا شکار ہے، مہنگائی کا بحران بڑھ رہا ہے، صحت کے اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں اور امریکی حکومت شٹ ڈاؤن کا سامنا کر رہی ہے—جبکہ اسرائیل کو امریکی امداد بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔
یہ امداد صرف مالی نہیں۔ اس میں اقوامِ متحدہ میں اسرائیل پر تنقید کی قراردادوں کو روکنا، بین الاقوامی قانون کے تحت اس کے رہنماؤں کو جواب دہ ٹھہرانے کی کوششوں کی مزاحمت کرنا، اور حتیٰ کہ اسرائیل کے خلاف یکطرفہ اقدامات کرنے والے اداروں، جیسے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC)، کو سزا دینا بھی شامل ہے—جسے امریکا مسلسل سخت پابندیوں کا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔
تو امریکا کی اسرائیل کے لیے حمایت کتنی وسیع ہے، اور یہ حمایت ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کو کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے؟
ٹرمپ نے اسرائیل کو کتنی امداد دی؟
بہت زیادہ۔
واشنگٹن 2019 میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کی نگرانی میں طے پانے والے 10 سالہ معاہدے کے تحت اسرائیل کو ہر سال 3.8 ارب ڈالر دیتا رہا ہے، جو امریکی ہتھیاروں پر خرچ کیے جاتے ہیں۔
مارچ میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ امریکا اسرائیل کو 4 ارب ڈالر کی ہنگامی فوجی امداد بھیج رہا ہے۔ انہوں نے فخر سے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اسرائیل کو 12 ارب ڈالر کے امریکی فوجی سازوسامان کی فروخت کی منظوری دے چکی ہے—اور اسے ٹرمپ کے پیش رو جو بائیڈن کی انتظامیہ سے مختلف قرار دیا، حالانکہ بائیڈن بھی اسرائیل کے بھرپور حامی تھے۔
اکتوبر میں شائع ہونے والی کاسٹ آف وار پروجیکٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، غزہ میں نسل کش جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکا اسرائیل کو 21 ارب ڈالر سے زائد دے چکا ہے۔
اس کی قیمت ٹرمپ کو میگا تحریک میں کتنی چکانا پڑی؟
آپ کی توقع سے کہیں زیادہ۔
میگا تحریک کے اندر کئی نمایاں شخصیات ٹرمپ کی اسرائیل کے لیے غیر متزلزل حمایت پر بغاوت کر چکی ہیں۔ تاہم ان کی تشویش کا مرکز صرف غزہ میں اب تک شہید ہونے والے 70 ہزار سے زائد افراد نہیں، بلکہ اسرائیل کی حمایت کی مالی لاگت اور اس کے ممکنہ خطرات بھی ہیں۔
جون میں میگا تحریک کی بااثر شخصیت اور ٹرمپ کے اتحادی، سابق فاکس نیوز میزبان ٹکر کارلسن، نے اس معاملے پر کھل کر صدر سے اختلاف کیا۔ سوشل میڈیا پر انہوں نے لکھا:
“اصل تقسیم اسرائیل کے حامیوں اور ایران یا فلسطینیوں کے حامیوں کے درمیان نہیں۔ اصل تقسیم ان لوگوں کے درمیان ہے جو لاپرواہی سے تشدد کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اور ان کے درمیان جو اسے روکنا چاہتے ہیں—یعنی جنگ پسندوں اور امن پسندوں کے درمیان۔”
ٹرمپ کے قریبی حلقے کے ایک اور فرد، سابق معاون اسٹیو بینن، نے بھی اس “خصوصی تعلق” پر سوال اٹھایا اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ انہوں نے ایران پر حملے کر کے امریکا سے “دھوکا” کیا، جبکہ انہیں معلوم تھا کہ اسرائیل کے پاس واضح فتح کے لیے ضروری وسائل نہیں۔
اسی سال کے آخر میں، جب نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل مخالف ہونا میگا تحریک کا حصہ ہونے کے منافی ہے، تو بینن نے سخت ردِعمل دیا۔ مبصرین کے مطابق انہوں نے “سب کچھ جلا دینے” والا لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ امریکی شہری نیتن یاہو کی میگا سے متعلق رائے کی پروا نہیں کرتے، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ وزیرِ اعظم کے “مرضیاتی جھوٹ” بے نقاب کیے جائیں تاکہ امریکا اسرائیل کی “اگلی جنگ” سے باہر رہے۔
کیا اسرائیل کی حمایت نے ٹرمپ کے سیاسی حامیوں کو نقصان پہنچایا؟
کچھ حد تک، ہاں۔
اگرچہ بہت سے ریپبلکن رہنما اب بھی وفادار ہیں، لیکن سب سے سخت تنقید—اور امریکی دائیں بازو میں چند آوازوں میں سے ایک جس نے اسرائیل پر نسل کشی کا الزام لگایا—کانگریس کی رکن مارجوری ٹیلر گرین کی جانب سے آئی، جو پہلے ٹرمپ کی مضبوط اتحادی سمجھی جاتی تھیں۔
مہنگائی اور جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں کے تنازع کے دوران، گرین نے سوشل میڈیا پر “غزہ میں ہونے والی نسل کشی، انسانی بحران اور بھوک” کی مذمت کی، جس پر ٹرمپ سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے انہیں “مارجوری غدار گرین” قرار دیا۔
بعد ازاں گرین نے کانگریس چھوڑنے کا اعلان کیا، تاہم میگا تحریک میں بہت سے لوگ اب بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک انہوں نے “اسرائیل فرسٹ” کے بجائے “امریکا فرسٹ” پالیسی کا دفاع کیا۔
انتخابی طور پر اس کی قیمت کتنی ہو سکتی ہے؟
یہ ابھی یقینی نہیں۔
اس ہفتے یوگوو اور انسٹی ٹیوٹ فار مڈل ایسٹ انڈرسٹینڈنگ (IMEU) پالیسی پروجیکٹ کے ایک نئے سروے میں دکھایا گیا کہ ریپبلکن ووٹرز کی ایک بڑی تعداد 10 سالہ امدادی معاہدے کو اپنی مدت پوری ہونے کے بعد ختم کرنے کے حق میں ہے۔ نوجوان ریپبلکنز میں یہ رجحان اور بھی نمایاں ہے، جہاں 18 سے 44 سال کے 53 فیصد افراد معاہدہ مکمل طور پر ختم کرنے کے حامی ہیں۔
کیلیفورنیا یونیورسٹی میں اسرائیل اسٹڈیز کے پروفیسر ڈوو ویکس مین نے اکتوبر میں الجزیرہ کو بتایا:
“غزہ کی جنگ سے پہلے بھی نوجوان امریکیوں، بشمول نوجوان انجیلیکل مسیحیوں، میں اسرائیل کی حمایت کم اور فلسطینیوں کے لیے ہمدردی زیادہ تھی۔ غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیل کے رویے نے ان اہم گروہوں میں اسرائیل کی حمایت میں کمی کو نمایاں طور پر تیز کر دیا ہے۔”
یہ اثر صرف ٹرمپ کے روایتی حامیوں تک محدود نہیں۔ سرویز کے مطابق ان کے ایک اور مضبوط حامی طبقے—انجیلیکل مسیحیوں—میں بھی اسرائیل کی حمایت کمزور پڑ رہی ہے۔ اکتوبر میں اسرائیلی حکومت نے ایک نئی پی آر کمپنی Faith through Works کی خدمات حاصل کیں، جس کا مقصد ان کے بقول “امریکی انجیلیکل مسیحیوں میں اسرائیل کے لیے کم ہوتی حمایت کا مقابلہ کرنا” تھا۔
اسی مہینے ایک ہزار سے زائد امریکی مسیحی پادری اور اثرورسوخ رکھنے والے افراد اسرائیل گئے، جو “اسرائیل کے قیام کے بعد سے وہاں جانے والے امریکی مسیحی رہنماؤں کا سب سے بڑا وفد” قرار دیا گیا۔
یہ دورہ امریکی مصنف مائیک ایونز نے منظم کیا تھا، جو ٹرمپ کے قریبی انجیلیکل اتحادی اور مبینہ طور پر نیتن یاہو کے پرانے معتمد سمجھے جاتے ہیں۔
تاہم جیسے جیسے غزہ امریکی خبروں سے پس منظر میں جاتا جا رہا ہے، امریکا کے اندر اسرائیل کی اہمیت بھی کم ہو سکتی ہے۔
آنے والے امریکی انتخابات پر اسرائیل سمیت کئی عوامل اثر انداز ہوں گے، لیکن غالب امکان ہے کہ توجہ معیشت اور دیگر اندرونی مسائل پر رہے گی۔
اور اگر 2028 کے صدارتی انتخابات سے قبل ریپبلکنز کو انتخابی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، تو اسرائیل کے حامی اور مخالف—دونوں—ممکن ہے اس مسئلے کو ایک طرف رکھ کر ڈیموکریٹس کا مقابلہ کرنے پر توجہ مرکوز کر دیں

