اسلام آباد (مشرق نامہ) – پاکستان نے جمعرات کو کہا کہ غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کے لیے فوجی حصہ داری پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے، اور اسلام آباد کو باقاعدہ طور پر کسی فوجی تعیناتی کی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ یہ بیان امریکہ کی جانب سے پاکستان پر ممکنہ دباؤ کے حوالے سے بڑھتی قیاس آرائیوں کے درمیان سامنے آیا۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ "ISF میں پاکستان کی شرکت کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔”
ISF امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازعہ ختم کرنے کے 20 نکاتی فریم ورک کا اہم حصہ ہے، جس کے تحت اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی۔
17 نومبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس منصوبے کی توثیق کرتے ہوئے ISF کے قیام کی منظوری دی، جسے عارضی کثیر القومی فورس کے طور پر غزہ میں سیکیورٹی، غیر مسلح کاری اور تعمیر نو کی معاونت کے لیے تعینات کیا جائے گا۔ پاکستان نے اس قرارداد کی حمایت کی تھی۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ فورس میں حصہ ڈالے، تاہم اسلام آباد کو کسی فوجی تعیناتی کی باقاعدہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔ اندرابی نے روئیٹرز کی رپورٹ کی تردید کی جس میں کہا گیا کہ آرمی چیف و CDF فیلڈ مارشل عاصم منیر جلد واشنگٹن جائیں گے، اور غزہ فورس پر بات چیت ایجنڈے کا اہم حصہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ "یہ رپورٹ اس حوالے سے درست نہیں کہ دورہ طے پایا یا حتمی ہے۔”
دوسری جانب، وائٹ ہاؤس نے بھی کہا کہ صدر کے کیلنڈر میں اس ملاقات کے لیے کوئی شیڈول نہیں ہے۔
ISF کے حوالے سے اندرابی نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بات چیت جاری ہے لیکن پاکستان کو فوجی بھیجنے کی کسی باقاعدہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ سابقہ بیانات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان اصولی طور پر فورس میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے مینڈیٹ اور ٹرمز آف ریفرنس واضح ہوں۔ انہوں نے کہا کہ "ہم یقینی طور پر فورس میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہیں، لیکن یہ فیصلہ ISF کے مینڈیٹ اور TOR کے تعین کے بعد ہی کیا جائے گا۔”
ڈار نے حماس کی غیر مسلح کاری میں شامل ہونے سے انکار کیا اور کہا کہ "یہ ہمارا کام نہیں، بلکہ فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے۔ ہمارا کام امن قائم رکھنا ہے، امن نافذ کرنا نہیں۔” انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا نے بھی اسی نوعیت کے تحفظات ظاہر کیے ہیں اور تقریباً 20,000 فوجی تعینات کرنے کی پیشکش کی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے حال ہی میں قطر میں تقریباً 45 ممالک کے ساتھ ISF کے کمانڈ ڈھانچے اور دیگر غیر حل شدہ آپریشنل مسائل پر کانفرنس کی میزبانی کی۔ اس کے علاوہ امریکی محکمہ خارجہ نے 70 سے زائد ممالک سے فوج یا مالی امداد کی درخواست کی ہے، اور اب تک تقریباً 19 ممالک نے فوجی، لاجسٹکس یا ساز و سامان کے ذریعے مدد کی رضامندی ظاہر کی ہے۔ بین الاقوامی تعیناتی غزہ میں اگلے ماہ سے بھی شروع ہو سکتی ہے۔

