اسلام آباد (مشرق نامہ) – پاکستان نے جمعرات کے روز کہا کہ افغانستان سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ رپورٹ نے سرحد پار دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کے حوالے سے اس کے دیرینہ خدشات کی توثیق کر دی ہے۔
افغانستان سے متعلق تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 16ویں رپورٹ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان کے عبوری حکام مسلسل اس بات کی تردید کرتے رہے ہیں کہ کوئی دہشت گرد گروہ ان کی سرزمین پر موجود ہے یا وہاں سے کارروائیاں کرتا ہے، تاہم یہ دعویٰ قابلِ اعتبار نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی بڑی تعداد مسلسل یہ اطلاع دیتی رہی ہے کہ داعش خراسان، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، مشرقی ترکستان اسلامی تحریک جسے ترکستان اسلامک پارٹی (ای ٹی آئی ایم/ٹی آئی پی) بھی کہا جاتا ہے، جماعت انصار اللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بعض گروہوں نے افغانستان کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے استعمال کیا ہے یا اب بھی کر رہے ہیں۔
ہفتہ وار نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے جو پاکستان مسلسل کہتا آ رہا ہے کہ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات کی معمول پر واپسی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ سلامتی کونسل کی رپورٹ میں افغان سرزمین سے سرگرم مختلف دہشت گرد تنظیموں کے ڈھانچے کی تفصیل دی گئی ہے، خاص طور پر تحریکِ طالبان پاکستان کے حوالے سے، جسے پاکستان فتنہ الخوارج بھی قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ نتائج پاکستان کے سرکاری مؤقف سے ہم آہنگ ہیں اور اب عالمی دارالحکومتوں میں بھی واضح طور پر سنے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان گروہوں کی موجودگی دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے، جس میں سرحدی نظم و نسق، تجارت کی بحالی اور پائیدار جنگ بندی میں پیش رفت شامل ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان نے یہ خدشات افغان طالبان حکام کے ساتھ مسلسل اٹھائے ہیں اور ایران میں ہونے والے حالیہ مذاکرات سمیت کثیرالجہتی اور علاقائی فورمز پر بھی اجاگر کیے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں نامزد افراد یا مبینہ مالی معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس سمیت کافی شواہد موجود ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ افغانستان کے اندر دہشت گرد عناصر کو طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان افغانستان سے متعلق علاقائی رابطہ کاری کے نظام کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد کی جانب سے خیرسگالی کے اقدامات کا تاحال جواب نہیں دیا گیا۔
افغانستان کے ساتھ مبینہ جنگ بندی سے متعلق سوال پر ترجمان نے وضاحت کی کہ اس سمجھوتے کو روایتی فوجی معنوں میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملے فائرنگ کے مترادف ہیں، اور پاکستان کی نیک نیتی کے باوجود ایسے حملے جاری رہے ہیں، جس کے باعث یہ جنگ بندی برقرار نہیں رہ سکی۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے رائٹرز کی اس رپورٹ کو بھی بنیادی طور پر مسترد کر دیا جس میں چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ممکنہ دورۂ امریکا کا ذکر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں یہ تاثر دیا گیا کہ دورہ طے پا چکا ہے، جو درست نہیں۔ ترجمان کے مطابق انہیں ایسے کسی دورے سے متعلق کوئی معلومات نہیں اور اعلیٰ سطحی دوروں کا اعلان ہمیشہ باضابطہ طور پر کیا جاتا ہے، جبکہ اس معاملے میں کوئی اعلان نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت کے بیرونِ ملک دورے معمول کا حصہ ہیں، تاہم نامعلوم ذرائع پر مبنی قیاس آرائیوں کو تصدیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
مزید سوالات کے جواب میں ترجمان نے ماضی میں سابق فوجی حکمرانوں کے واشنگٹن دوروں اور بڑے امدادی پیکجز سے متعلق تقابلی سوالات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی اقتصادی یا تزویراتی نتائج پر بات قبل از وقت اور محض قیاس آرائی ہے، اور کسی ممکنہ دورے کی صورت میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے باضابطہ اعلان کا انتظار کیا جانا چاہیے۔
بریفنگ کے دوران پاکستان کے خلاف جاری مبینہ منظم گمراہ کن مہم پر بھی بات کی گئی، خاص طور پر آسٹریلیا کے بانڈی بیچ میں حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے اسرائیل اور افغانستان کے بعض ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ساتھ مل کر حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی، حالانکہ بعد میں حملہ آور ایک بھارتی شہری نکلا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایسے واقعات کو متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا ہے اور خبردار کیا ہے کہ مسلسل گمراہ کن معلومات پھیلانے سے ایسا کرنے والوں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
ترجمان نے رواں ماہ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اور غیر معمولی اتار چڑھاؤ پر بھی پاکستان کی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق 7 سے 15 دسمبر کے دوران پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، جو بھارت کی جانب سے پیشگی اطلاع یا ڈیٹا شیئر کیے بغیر یکطرفہ پانی چھوڑنے کی نشاندہی کرتی ہیں، جو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے معاہدے کے تحت وضاحت کے لیے اپنے بھارتی ہم منصب کو باضابطہ خط لکھا ہے۔ ترجمان کے مطابق بھارت کی جانب سے دریائی پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ، خاص طور پر زرعی سائیکل کے نازک مرحلے پر، براہِ راست عوام کی جان، روزگار، غذائی تحفظ اور معاشی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
سندھ طاس معاہدے سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے جو دہائیوں سے علاقائی امن و استحکام کا ذریعہ رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی خلاف ورزی سے نہ صرف بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی حرمت مجروح ہوتی ہے بلکہ علاقائی امن اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
آرٹیکل 9 کے نفاذ سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں اور وہ اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ان کا استعمال کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہ کرے، کیونکہ پانی تک رسائی بنیادی حقِ حیات سے جڑی ہوئی ہے۔
اختتام پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات کے پرامن حل کے لیے پُرعزم ہے، تاہم اپنے عوام کے وجودی آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

