اسلام آباد (مشرق نامہ) – صدر آصف علی زرداری نے جمعرات کے روز مملکتِ بحرین کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔
صدر مملکت یہ بات بحرین کے پاکستان میں سفیر محمد ابراہیم محمد عبدالقادر سے ایوانِ صدر میں ملاقات کے دوران کہہ رہے تھے۔
ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر زرداری نے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کو اجاگر کیا جو مشترکہ مذہبی اور ثقافتی اقدار پر مبنی ہیں، اور سیاسی، اقتصادی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کی پاکستان کی خواہش پر زور دیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ اپنے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے جو مشترکہ مذہبی اور ثقافتی رشتوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کے حالیہ دورۂ بحرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو دیا گیا پرتپاک استقبال اور شاندار مہمان نوازی دونوں ممالک کے تعلقات کی گہرائی اور گرمجوشی کی عکاس ہے۔
صدر زرداری نے یاد دلایا کہ وزیر اعظم نے بحرینی قیادت بشمول شاہِ بحرین، ولی عہد اور نائب ولی عہد کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تھی، اور کہا کہ پاکستان ان کی میزبانی کا منتظر ہے۔ انہوں نے شاہِ بحرین کی جانب سے پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کرنے پر قدردانی کا اظہار بھی کیا۔
صدر مملکت نے بحرین کو 2026–2027 کی مدت کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت کے انتخاب پر مبارک باد دی اور پاکستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کے بعد یکجہتی اور حمایت پر مملکتِ بحرین کا شکریہ ادا کیا۔
اقتصادی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے اور دوطرفہ اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے بحرینی سرمایہ کاروں کو غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیاحت سمیت ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔
صدر مملکت نے بحرین میں مقیم پاکستانی برادری کی خدمات کو بھی سراہا، جنہوں نے بحرین کی معیشت میں قیمتی کردار ادا کیا اور ترسیلاتِ زر کے ذریعے پاکستان کی معاونت کی۔ انہوں نے ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو عزت و احترام اور مواقع فراہم کرنے پر بحرینی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی قیدیوں کے لیے شاہِ بحرین کی جانب سے دی جانے والی فراخدلانہ معافی پر اظہارِ تشکر کیا۔
ملاقات میں سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر سینیٹر شیری رحمٰن اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی موجود تھے۔

