یروشلم، 17(مشرق نامہ ) دسمبر (رائٹرز) — اسرائیل نے مصر کو قدرتی گیس کی فراہمی کے ایک معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کے روز اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا گیس معاہدہ ہے۔
اسرائیل نے یہ برآمدی معاہدہ اگست میں شیوران (Chevron) اور اس کے شراکت داروں نیو میڈ (NewMed) اور ریشیو (Ratio) کے ساتھ طے کیا تھا، جس کے تحت لیوایتھن قدرتی گیس فیلڈ سے مصر کو 35 ارب ڈالر تک کی گیس فراہم کی جائے گی۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ، جو کچھ زیرِ التوا مسائل کی وجہ سے تاخیر کا شکار تھا، خطے میں استحکام کو یقینی بنانے میں مدد دے گا۔
یہ معاہدہ مصر میں توانائی کے بحران میں کمی لانے کا باعث بنے گا، کیونکہ اپنی پیداوار طلب پوری نہ کر سکنے کے بعد مصر کو حالیہ برسوں میں مائع قدرتی گیس (LNG) کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑے ہیں۔
شیوران کے ایک ترجمان نے کہا کہ کمپنی نے اسرائیل کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت لیوایتھن ذخیرے سے مصر کو قدرتی گیس برآمد کرنے کا اجازت نامہ جاری کیا گیا ہے۔
شیوران نے نومبر میں کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے بحیرۂ روم کے ساحل کے قریب واقع لیوایتھن گیس فیلڈ کی توسیع کے لیے حتمی سرمایہ کاری فیصلے کے قریب پہنچ چکی ہے، تاہم مصر کو گیس برآمد کرنے کے لیے اسرائیلی اجازت نامے کی منتظر تھی۔
معاہدے کے تحت، لیوایتھن فیلڈ—جس کے ذخائر تقریباً 600 ارب مکعب میٹر ہیں—سال 2040 تک یا جب تک معاہدے کی تمام مالیت پوری نہ ہو جائے، مصر کو تقریباً 130 ارب مکعب میٹر گیس فروخت کرے گا۔ یہ بات نیو میڈ نے اپنے بیان میں بتائی۔
مصر کی گیس پیداوار 2022 میں کم ہونا شروع ہو گئی تھی، جس کے باعث اسے خطے کا توانائی سپلائی مرکز بننے کی اپنی خواہش ترک کرنا پڑی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مصر نے بڑھتے ہوئے طور پر اسرائیل کی طرف رجوع کیا ہے

