جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیامریکہ ’غلیظ طریقوں‘ سے مسابقت کرنے والوں کو دباتا ہے — لاوروف

امریکہ ’غلیظ طریقوں‘ سے مسابقت کرنے والوں کو دباتا ہے — لاوروف
ا

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)روسی وزیرِ خارجہ کے مطابق واشنگٹن ٹیرف اور پابندیوں کو دباؤ ڈالنے کے اوزار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ امریکہ حریفوں کو دبانے کے لیے 500 فیصد تک کے ٹیرف کی دھمکی جیسے “غلیظ طریقے” اختیار کر رہا ہے، اور اس طرزِ عمل کو انہوں نے “ڈکٹیشن (حکم چلانا)” قرار دیا۔

لاوروف نے یہ بات پیر کے روز ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی (IRIB) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جہاں انہوں نے چین کے خلاف امریکی تجارتی پالیسی اور سیاسی بنیادوں پر عائد کی گئی پابندیوں پر گفتگو کی۔

ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ کے بارے میں واشنگٹن کا رویہ چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اور سیاسی اثر و رسوخ کو قبول نہ کرنے سے جڑا ہوا ہے۔ امریکہ “دوسرا درجہ اختیار کرنے” پر آمادہ نہیں، اسی لیے منصفانہ مقابلے کے بجائے تعزیری تجارتی اقدامات اور دباؤ کی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے۔

جاری امریکہ۔چین تجارتی تنازع کے دوران بعض چینی اشیا پر مجموعی ٹیرف عملی طور پر 100 فیصد تک پہنچ چکے ہیں یا اس سے تجاوز کر گئے ہیں، جسے لاوروف نے جبر پر مبنی معاشی طرزِ عمل کی مثال قرار دیا۔

انہوں نے بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی سینیٹ میں پیش کیے گئے ایک بل، Sanctioning Russia Act، کی حمایت کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت اُن ممالک کی درآمدات پر 500 فیصد تک کے ٹیرف کی اجازت دی جا سکتی ہے جو روسی توانائی مصنوعات کی خریداری جاری رکھیں، جن میں بھارت اور چین بھی شامل ہیں۔

لاوروف نے کہا، “جب کوئی 100 یا حتیٰ کہ 500 فیصد ٹیرف کے ذریعے حریفوں کو دبانے کی کوشش کرے، یا کھلے عام یہ کہہ کر پابندیاں لگائے کہ وجہ سیاسی ہے، تو یہ محض عدم مساوات نہیں رہتی۔ یہ انسانی حقوق کی بے حرمتی ہے۔ یہ ڈکٹیشن ہے۔”

وزیرِ خارجہ نے روس کی نجی تیل کمپنی لوک آئل اور سرکاری کنٹرول میں کام کرنے والی روزنیفٹ کے خلاف امریکی پابندیوں کا بھی حوالہ دیا، اور دلیل دی کہ ایسے اقدامات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ مغرب اب اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے مسلسل مضبوط نہیں رہا، اس لیے مسابقت ختم کرنے کے لیے غیر جمہوری اور منڈی مخالف طریقوں کا سہارا لے رہا ہے۔

لاوروف کا یہ انٹرویو بدھ کو ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ متوقع مذاکرات سے قبل سامنے آیا، جن میں توانائی کے شعبے میں تعاون اور تجارتی روابط پر توجہ دیے جانے کی توقع ہے۔ روس اور ایران، جو دونوں طویل عرصے سے مغربی پابندیوں کی زد میں ہیں، نے رواں سال ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے اور حالیہ مہینوں میں باہمی رابطہ کاری میں اضافہ کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان اس سال تین مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں، جن میں حالیہ ملاقات گزشتہ ہفتے ہوئی

مقبول مضامین

مقبول مضامین