ڈھاکہ (مشرق نامہ) – تعلیمی مشیر پروفیسر ڈاکٹر چودھری رفیق الاسلام ابرار نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) اور ملک کی جامعات پر زور دیا ہے کہ وہ طلبہ کی سماجی اور ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے وسیع اور مؤثر اقدامات کریں۔
انہوں نے یہ بات ایک ہوٹل میں منعقدہ سوشل اینڈ مینٹل ہیلتھ پروٹیکشن پروجیکٹ سے متعلق تبادلۂ خیال کی نشست میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس کی صدارت یو جی سی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم اے فائز نے کی، جبکہ بنگلہ دیش میں یونیسکو کی نمائندہ سوسن وائز، یو جی سی کے اراکین پروفیسر ڈاکٹر محمد انوار حسین، پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید الرحمٰن، پروفیسر ڈاکٹر مسومہ حبیب اور پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب اسلام، نیز وزارتِ تعلیم کے سیکنڈری و ہائر ایجوکیشن ڈویژن کی ایڈیشنل سیکریٹری الفی رودابا بطور خصوصی مہمان شریک ہوئیں۔
اجلاس کے آغاز میں یو جی سی کے انٹرنیشنل کوآپریشن ڈویژن کی ڈائریکٹر جیسمین پروین نے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔ اپنے خطاب میں تعلیمی مشیر نے کہا کہ یونیسکو کے تعاون سے شروع کیا گیا سماجی و ذہنی صحت کے تحفظ کا منصوبہ جولائی تحریک کے نتیجے میں نوجوان نسل کو درپیش نفسیاتی صدمات پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایسے پروگراموں کو وسیع تر پیمانے پر پھیلایا جائے اور ملک بھر کی جامعات میں پائیدار اقدامات اپنائے جائیں۔ ڈاکٹر ابرار کے مطابق جولائی عوامی تحریک کے دوران زخمی ہونے والے طلبہ کی بحالی کے لیے قریبی نگرانی ناگزیر ہے، اور امید ظاہر کی کہ سماجی و ذہنی صحت کے تحفظ کے منصوبے ان میں پائی جانے والی مایوسی کو کم کرنے میں معاون ہوں گے۔ انہوں نے طلبہ کی فلاح کے لیے یہ منصوبہ شروع کرنے پر یونیسکو کا شکریہ بھی ادا کیا۔
یو جی سی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم اے فائز نے کہا کہ جولائی تحریک میں طلبہ کے جرات مندانہ کردار کے باعث ملک میں نمایاں سماجی تبدیلیاں رونما ہوئیں، اور یو جی سی زخمی طلبہ کو تکالیف اور نفسیاتی صدمات سے نکالنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یونیسکو کی ملکی نمائندہ سوسن وائز نے کہا کہ یہ منصوبہ نوجوانوں کو مختلف نوعیت کے نفسیاتی صدمات سے نکلنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی جامعات میں ساختی اصلاحات متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا اور نوجوانوں کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے باہمی تعاون کی اپیل کی۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش میں پالیسی سازی کے مقابلے میں اس پر عملدرآمد زیادہ مشکل مرحلہ ہے، تاہم یونیسکو سماجی و ذہنی صحت کے تحفظ سے متعلق سرگرمیوں میں مسلسل تعاون فراہم کرتا رہے گا۔
تقریب کے دوران سماجی اور ذہنی صحت کے موضوع پر کہانیوں اور ویڈیو ڈاکیومنٹریز پیش کرنے والے 14 طلبہ کو انعامات دیے گئے، جبکہ منصوبے کے تحت شائع ہونے والی تین کتب کی رونمائی بھی کی گئی، جو یونیورسٹی اساتذہ اور طلبہ کی ذہنی بہبود میں معاون ثابت ہوں گی۔
پروگرام میں مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، اساتذہ، طلبہ اور وزارتِ تعلیم، یو جی سی اور یونیسکو کے حکام نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ سوشل اینڈ مینٹل ہیلتھ پروٹیکشن پروجیکٹ کے تحت ملک بھر کی 22 سرکاری اور نجی جامعات کے 10 ہزار طلبہ کو ذہنی صحت کی خدمات فراہم کی جا چکی ہیں، جبکہ 20 ہزار طلبہ کو سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق آگاہی دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ جولائی عوامی تحریک کے بعد کے دور میں یونیورسٹی طلبہ کی ذہنی صحت بہتر بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

