جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان اور روس کے درمیان تیل شعبے میں تعاون پر بات چیت

پاکستان اور روس کے درمیان تیل شعبے میں تعاون پر بات چیت
پ

کراچی (مشرق نامہ) – وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان تیل کے شعبے میں ممکنہ معاہدے پر بات چیت جاری ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کی توانائی کی وزارتوں کے درمیان تفصیلی مشاورت ہو رہی ہے۔

روسی خبر رساں ادارے ریا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ یہ تمام شعبے روس کی مضبوط صلاحیتوں میں شامل ہیں اور اگر روس پاکستان کے ساتھ اس شعبے میں معاہدے پر آمادہ ہوتا ہے تو پاکستان اس کا خیرمقدم کرے گا۔

رائٹرز کے مطابق یہ مذاکرات تیل، گیس اور معدنیات کے شعبوں میں پاکستان اور روس کے درمیان جاری تعاون کا تسلسل ہیں، جن میں پاکستان میں ایک ریفائنری کی اپ گریڈیشن اور تیل و گیس کی تلاش، پیداوار اور ریفائننگ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات شامل ہیں۔ پاکستان نے 2023 میں روسی خام تیل کی درآمد کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اور درآمدی لاگت میں کمی لانا تھا۔

محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ پاکستان اور روس ملک میں ایک اور اسٹیل پلانٹ کے قیام پر بھی غور کر رہے ہیں۔

اکتوبر میں وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے 14ویں سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل گیس فورم 2025 میں شرکت کی، جہاں روس کے ساتھ تیل، گیس اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کی گئیں۔

وفاقی وزیرِ پٹرولیم نے 7 سے 10 اکتوبر تک منعقدہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل گیس فورم کے پلینری سیشن میں پاکستان کی نمائندگی کی اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کو اجاگر کیا۔

گیس مارکیٹ 2025 تا 2035 کے موضوع پر ہونے والے سیشن میں علی پرویز ملک نے عالمی صنعت کے رہنماؤں کو بتایا کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں تنوع اور شفافیت کو فروغ دے رہا ہے تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے اور طویل المدتی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس فورم میں گیزپروم کے چیئرمین الیکسی ملر، روس کے وزیرِ توانائی سرگئی تسیویلیف اور ترکیہ کے وزیرِ توانائی الپ ارسلان بائرکتار سمیت دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں، جہاں عالمی گیس منڈی، توانائی کی منتقلی اور بدلتی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے تناظر میں بین الاقوامی تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

فورم کے موقع پر علی پرویز ملک نے گیزپروم کے چیئرمین الیکسی ملر سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور گیزپروم کے درمیان تلاش، مشترکہ منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے روسیو، روسی جیولوجیکل سروے، اور توانائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت فراہم کرنے والی کمپنی نیدرا ڈیجیٹل کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان کے توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں روسی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ڈیجیٹل حل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ترکیہ کے وزیرِ توانائی و قدرتی وسائل الپ ارسلان بائرکتار سے ایک علیحدہ ملاقات میں توانائی کی ترسیل، مائع قدرتی گیس اور معدنی ترقی کے شعبوں میں سہ فریقی تعاون کے امکانات پر بات کی گئی۔ علی پرویز ملک نے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی سرمایہ کاروں کو آئندہ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ یہ فورم پاکستان کو وسائل پر مبنی سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم منزل بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل گیس فورم دنیا کے بڑے توانائی ایونٹس میں شمار ہوتا ہے، جس میں 50 ممالک سے 30 ہزار سے زائد شرکا نے شرکت کی، جبکہ قدرتی گیس کی ترقی، تلاش کی جدید ٹیکنالوجیز، ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیدار توانائی نظام پر 100 سے زائد سیشنز منعقد ہوئے۔

علی پرویز ملک کا یہ دورہ ستمبر میں بیجنگ میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات کے بعد ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے توانائی، تجارت اور علاقائی رابطہ کاری میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا، بشمول روس، وسطی ایشیا، افغانستان اور پاکستان کو ملانے والے تجارتی راہداری منصوبے کی ترقی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ روسی خام تیل کی درآمدات میں اضافے سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ صدر پیوٹن نے پاکستان کو ایشیا میں ایک روایتی اور قابلِ قدر شراکت دار قرار دیتے ہوئے اقتصادی تعاون کے فروغ کے حوالے سے امید کا اظہار کیا تھا۔

یہ سرگرمیاں علی پرویز ملک کی سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2025 میں شرکت کے تسلسل کا حصہ ہیں، جہاں انہوں نے پاکستان کی مائننگ فریم ورک پالیسی پیش کی اور ریکوڈک منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی کی تکمیل کو اجاگر کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کے معدنی وسائل، جن میں تانبہ، سونا، لیتھیم اور نایاب ارضی عناصر شامل ہیں، واضح ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت پائیدار ترقی کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین