اسلام آباد (مشرق نامہ) – اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک افغان شہری بختی جان کو افغانستان بے دخل کرنے سے عارضی طور پر روک دیا ہے اور وزارتِ امورِ ریاست و سرحدی علاقوں (سیفران) کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر درخواست گزار کے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ سے متعلق درخواست پر فیصلہ کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فیصلے تک درخواست گزار کو بے دخل نہیں کیا جائے گا۔
یہ حکم جسٹس محسن اختر کیانی نے افغان پناہ گزین کی جانب سے دائر اس درخواست کی سماعت کے دوران دیا، جس میں پاکستانی شہریت دینے اور بے دخلی سے تحفظ کی استدعا کی گئی تھی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سیفران اور نادرا میں درخواستیں جمع کرائی جا چکی ہیں، تاہم تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ درخواست گزار ایک افغان پناہ گزین ہے، تاہم اب اسے معلوم ہوا ہے کہ اس کے والدین پاکستانی ہیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے قرار دیا کہ پاکستانی شہریت کے حصول کے لیے درخواست گزار کو پہلے اپنا پی او آر کارڈ منسوخ کروانا ہوگا، کیونکہ پی او آر کارڈ کی منسوخی شہریت کی درخواست دینے کے لیے لازمی شرط ہے۔
عدالت نے اسی بنیاد پر وزارتِ سیفران کو ہدایت دی کہ وہ ایک ماہ کے اندر پی او آر کارڈ کی منسوخی سے متعلق درخواست پر فیصلہ کرے اور کیس کی سماعت آئندہ ماہ تک ملتوی کر دی۔

