جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستانپاکستان کے صرف 47 فیصد شہریوں کو محفوظ پینے کا پانی میسر

پاکستان کے صرف 47 فیصد شہریوں کو محفوظ پینے کا پانی میسر
پ

اسلام آباد (مشرق نامہ) – ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے صرف 47 فیصد شہریوں کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی حاصل ہے، جبکہ پانی کے معیار کا بحران تیزی سے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جس کے سنگین اثرات عوامی صحت، قومی پیداوار اور پائیدار ترقی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ انکشاف پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں کیا گیا۔

سیمینار، جس کا عنوان پاکستان میں پانی کے معیار اور عوامی صحت تھا، سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) کی ڈائریکٹر جنرل (واٹر کوالٹی) ڈاکٹر حفظہ رشید نے بتایا کہ پاکستان میں فی کس میٹھے پانی کی دستیابی 1951 میں 5,260 مکعب میٹر سے کم ہو کر 2024 میں ایک ہزار مکعب میٹر سے بھی نیچے آ چکی ہے، جس کے باعث پاکستان کا شمار پانی کی قلت کا شکار ممالک میں ہونے لگا ہے۔

ڈاکٹر حفظہ رشید اور پائیڈ کے ڈین (ریسرچ) ڈاکٹر شجاعت فاروق نے اس امر پر زور دیا کہ غیر محفوظ پانی ملک بھر میں تقریباً 40 فیصد بیماریوں کی بنیادی وجہ ہے، اور پاکستان کے آبی مستقبل کے تحفظ کے لیے فوری، مربوط اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

سیمینار میں ماہرین، محققین اور طلبہ نے ملک میں پانی کے معیار کے بگڑتے ہوئے بحران اور اس کے صحت، پیداواری صلاحیت اور پائیدار ترقی پر اثرات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر شجاعت فاروق نے کہا کہ قدرتی وسائل کی موجودگی کے باوجود آلودگی، حد سے زیادہ نکاسی اور ادارہ جاتی عدم ہم آہنگی نے پانی کے عدم تحفظ کو پاکستان کے سنگین ترین عوامی صحت کے مسائل میں تبدیل کر دیا ہے۔

انہوں نے یونیسیف کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں تقریباً 70 فیصد گھرانے آلودہ پانی استعمال کر رہے ہیں، جبکہ 30 سے 40 فیصد بیماریاں، جن میں اسہال، ہیپاٹائٹس اور ٹائیفائیڈ شامل ہیں، غیر محفوظ پانی کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ صرف پانی کی کمی نہیں بلکہ ناقص نظم و نسق اور کمزور ادارہ جاتی ہم آہنگی ہے۔

قومی سطح پر صورتحال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر حفظہ رشید نے بتایا کہ پاکستان میں فی کس میٹھے پانی کی دستیابی 1951 میں 5,260 مکعب میٹر تھی، جو 2024 میں کم ہو کر ایک ہزار مکعب میٹر سے بھی نیچے آ گئی ہے، جس سے ملک پانی کی قلت کے زمرے میں داخل ہو چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زراعت ملک کے مجموعی میٹھے پانی کا تقریباً 93 فیصد استعمال کرتی ہے، تاہم آبپاشی کی کارکردگی 40 فیصد سے بھی کم ہے۔ صرف پنجاب میں 13 لاکھ سے زائد ٹیوب ویل ہر سال تقریباً 50 ملین ایکڑ فٹ زیرِ زمین پانی نکالتے ہیں، جس کے باعث زیرِ زمین آبی ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

پی سی آر ڈبلیو آر کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک کی صرف 47 فیصد آبادی کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی حاصل ہے، جو 2022 میں 39 فیصد تھی۔ تاہم یہ شرح 2030 تک سب کے لیے محفوظ پانی کی فراہمی سے متعلق پائیدار ترقی کے ہدف (ایس ڈی جی 6.1) سے اب بھی بہت کم ہے۔

ڈاکٹر حفظہ رشید نے خبردار کیا کہ غیر محفوظ پانی کے باعث ہر سال تقریباً 53 ہزار بچوں کی اموات ہوتی ہیں، جبکہ ملک بھر میں 44 فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صنعتی فضلہ، زرعی زہریلے کیمیکلز اور بغیر ٹریٹمنٹ چھوڑا جانے والا سیوریج پانی کی آلودگی کی بڑی وجوہات ہیں، جبکہ جنوبی پنجاب اور سندھ میں آرسینک کی آلودگی شدید شکل اختیار کر چکی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں صرف 38 فیصد گندا پانی ٹریٹ کیا جاتا ہے۔

موسمیاتی خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے پانی کے حوالے سے غیر محفوظ ترین ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے۔ 2025 کے سیلابوں کے باعث 14.9 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جس نے پانی کی آلودگی اور بیماریوں کی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین