پیرس (مشرق نامہ) – ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منگل کے روز دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ افغان شہریوں کو زبردستی افغانستان واپس بھیجنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کریں، کیونکہ پاکستان، ایران اور بعض یورپی ممالک کی جانب سے یہ بے دخلیاں غیر قانونی طور پر کی جا رہی ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں افغانستان سے متعلق خصوصی نمائندہ جارجیٹ گیگنون نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ رواں برس اب تک تقریباً 25 لاکھ افغان شہری افغانستان واپس لوٹ چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال افغانستان کی آبادی میں چھ فیصد اضافے کے مترادف ہے، جو پہلے سے موجود شدید معاشی، موسمیاتی اور انسانی بحرانوں کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افغانستان میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واپس بھیجے جانے والے افراد کو سنگین نقصان پہنچنے کا حقیقی خطرہ لاحق ہے۔ تنظیم کے مطابق بین الاقوامی قانون واضح طور پر اس بات کی ممانعت کرتا ہے کہ کسی بھی شخص کو ایسے مقام پر زبردستی واپس بھیجا جائے جہاں اسے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہو سکتا ہو۔
ادارے نے یاد دلایا کہ کئی دہائیوں پر محیط مسلسل جنگوں کے باعث افغانوں کی نسلیں پاکستان اور ایران میں پناہ لینے پر مجبور رہیں، جس کے نتیجے میں بے شمار نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے کبھی افغانستان میں زندگی نہیں گزاری۔ تاہم حالیہ برسوں میں پاکستان اور ایران نے ان افراد کو زبردستی واپس بھیجنے کا عمل شروع کیا، جبکہ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ان پناہ گزینوں میں دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر بھی شامل ہیں۔
ایمنسٹی نے میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جرمنی، آسٹریا اور یورپی یونین طالبان کی عبوری حکومت سے جبری واپسیوں کی سہولت کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔
تنظیم کے مطابق افغانستان واپس آنے والے بہت سے افراد کو معاشرتی بے دخلی کا سامنا ہے اور انہیں روزگار کے مواقع میسر نہیں، جبکہ طالبان کے زیرِ اقتدار خواتین اور بچیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا ڈائریکٹر اسمرتی سنگھ نے کہا کہ افغان شہریوں کو زبردستی واپس بھیجنے کی یہ دوڑ اس بنیادی حقیقت کو نظرانداز کرتی ہے کہ وہ لوگ آخر کیوں اپنے ملک سے فرار ہوئے تھے اور واپسی کی صورت میں انہیں کس قدر سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

