برسلز (مشرق نامہ) – یورپی یونین نے روسی تیل کی تجارت کے ذریعے صدر ولادیمیر پیوٹن کی جنگی معیشت کو تقویت دینے کے الزام میں ایک پاکستانی نژاد کینیڈین تاجر سمیت متعدد افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
یورپی یونین نے پیر کے روز روسی تیل کے مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے پابندیوں کا نیا پیکج منظور کیا، جس کے تحت چند ایسے تاجروں کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن پر ماسکو کو خام تیل کی برآمدات پر عائد مغربی پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے کا الزام ہے۔
ان تازہ پابندیوں کے تحت یورپی یونین کے شہریوں کو فہرست میں شامل افراد اور کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ ان کی شپنگ اور انشورنس خدمات تک رسائی بھی محدود کر دی گئی ہے۔ یورپی یونین اب تک مجموعی طور پر 2,600 سے زائد افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔
یورپی یونین کونسل اور آفیشل جرنل کے مطابق ان پابندیوں میں ان نو افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو روس کے نام نہاد شیڈو فلیٹ کی معاونت کر رہے ہیں۔ اس فہرست میں روس کی بڑی تیل کمپنیوں روزنیفٹ اور لوک آئل سے وابستہ کاروباری شخصیات کے ساتھ ساتھ ایسے شپنگ ادارے بھی شامل ہیں جو تیل بردار جہازوں کے مالک یا منتظم ہیں۔
ان افراد میں کینیڈین-پاکستانی تیل تاجر مرتضیٰ لکھانی بھی شامل ہیں، جو تجارتی کمپنی مرکنٹائل اینڈ میری ٹائم کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ یورپی یونین کے آفیشل جرنل کے مطابق ان کی کمپنیاں روسی سرکاری تیل کمپنی روزنیفٹ سے روسی تیل کی ترسیل اور برآمدات میں سہولت فراہم کرتی رہی ہیں، جبکہ وہ ایسے بحری جہازوں کو بھی کنٹرول کرتے ہیں جو روس سے خام تیل یا پیٹرولیم مصنوعات منتقل کرتے ہیں۔
مرتضیٰ لکھانی نے اپنے کیریئر کا آغاز عالمی تجارتی کمپنی گلینکور سے کیا، جہاں انہوں نے صدام حسین کے دور میں عراقی تیل کی برآمدات پر کام کیا۔ بعد ازاں وہ عراقی کردستان منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے بغداد سے ہٹ کر تیل کی فروخت کے لیے وزارتِ تیل اور بین الاقوامی کمپنیوں کے درمیان بطور ثالث کردار ادا کیا۔
اسی دوران انہوں نے روس کی سرکاری توانائی کمپنی روزنیفٹ کو کردستان میں تیل اور گیس کے معاہدے طے کرنے میں مدد فراہم کی اور روزنیفٹ کے چیف ایگزیکٹو ایگور سیچن کے ساتھ قریبی طور پر کام کیا، جن میں سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقد ہونے والے روس کے اہم معاشی فورم میں دستخطی تقاریب بھی شامل تھیں۔
اسی تعلق کو آگے بڑھاتے ہوئے مرتضیٰ لکھانی نے معروف تیل تجارتی کمپنی وِٹول کے ساتھ شراکت میں روزنیفٹ کے دہائیوں کے سب سے بڑے منصوبے، آرکٹک میں واقع ووستوک آئل منصوبے میں پانچ فیصد حصص میں سرمایہ کاری کی۔
جون میں سینٹ پیٹرزبرگ فورم کے موقع پر روسی چینل سولوویوف لائیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ روس دنیا کا سب سے بڑا وسائل رکھنے والا ملک ہے اور اسے کمزور کرنا محض قلیل المدتی اثر رکھتا ہے، طویل المدتی ہدف نہیں ہو سکتا، کیونکہ دنیا کو ہمیشہ روس کی ضرورت رہے گی۔
رائٹرز کے مطابق مرتضیٰ لکھانی، مرکنٹائل اینڈ میری ٹائم، لیتاسکو مڈل ایسٹ ڈی ایم سی سی اور ٹو ریورز گروپ نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
یورپی یونین اب تک روس کے خلاف 19 پابندیوں کے پیکجز نافذ کر چکی ہے، تاہم ماسکو نے بیشتر اقدامات کے مطابق خود کو ڈھال لیا ہے اور اب بھی بھارت اور چین کو عالمی منڈی سے کم قیمت پر لاکھوں بیرل تیل فروخت کر رہا ہے۔ اس تیل کی بڑی مقدار ایسے جہازوں کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے جو مغربی بحری نظام سے باہر کام کرنے والے شیڈو فلیٹ کا حصہ ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یورپی یونین رواں ہفتے روس کے شیڈو فلیٹ میں شامل 40 سے زائد جہازوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے جا رہی ہے، جس کے بعد اس فہرست میں شامل بحری جہازوں کی مجموعی تعداد تقریباً 600 ہو جائے گی۔

