جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستانجون 2026 تک تمام سرکاری ادائیگیوں کی ڈیجیٹائزیشن کا ہدف

جون 2026 تک تمام سرکاری ادائیگیوں کی ڈیجیٹائزیشن کا ہدف
ج

اسلام آباد (مشرق نامہ) – ایک پارلیمانی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے ساتھ ساتھ سرکاری ملکیتی اداروں کی تمام ادائیگیوں کو جون 2026 تک مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ اقدام ملک کو کیش لیس معیشت کی جانب لے جانے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ماحولیاتی نظام کی ترقی، موجودہ انفراسٹرکچر، نمایاں کامیابیوں اور ابھرتے ہوئے رجحانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں 88 فیصد ریٹیل لین دین ڈیجیٹل ذرائع سے ہو رہا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کا ڈیجیٹل مالیاتی انفراسٹرکچر 22 کروڑ 60 لاکھ اکاؤنٹس اور 4 کروڑ 60 لاکھ رااست آئی ڈیز کو سہولت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لین دین کی مجموعی مالیت بڑھانے اور سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، جن میں بینک لایبیلٹی فریم ورک اور دھوکہ دہی کی روک تھام کے لیے دو گھنٹے کا ٹرانزیکشن کولنگ آف پیریڈ شامل ہے۔

جمیل احمد نے پاکستان میں مشرق بینک کی ڈیجیٹل آپریشنز کے کامیاب آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ عمل صرف 12 ماہ میں مکمل ہوا، جو عالمی سطح پر عموماً پانچ سال تک کا وقت لیتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملک میں پانچ نئے ڈیجیٹل بینکوں کو اصولی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔

اگرچہ پیش رفت نمایاں ہے، تاہم اسٹیٹ بینک کے گورنر نے مالی خواندگی کی کمی اور بعض ضابطہ جاتی خلا جیسے چیلنجز کا اعتراف کیا۔ اس کے باوجود انہوں نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ اسٹیٹ بینک ایک محفوظ، جامع اور جدید ڈیجیٹل ادائیگی نظام کی تشکیل کے لیے پرعزم ہے۔

اجلاس کی صدارت کرنے والے رکن قومی اسمبلی نوید قمر نے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا، خصوصاً ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے، جو برانچ لیس بینکنگ کی جگہ لے کر مستحقین کو براہِ راست فنڈز تک رسائی اور رقم نکالنے کے متعدد اختیارات فراہم کریں گے۔

وزیرِ مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر نے وزیرِ اعظم کے کیش لیس اقدام سے متعلق کمیٹی کو بریفنگ دی، جسے ڈیجیٹل ادائیگیوں میں جدت اور ان کے فروغ پر کام کرنے والی تین ذیلی کمیٹیوں کی معاونت حاصل ہے۔ اجلاس میں اس اقدام کے روڈ میپ پر بھی غور کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل مالیاتی خدمات مالی شمولیت، شفافیت اور معاشی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

دریں اثنا، جمیل احمد نے جاز کیش ایکسپیرینس لاؤنج کا افتتاح بھی کیا، جہاں چہرے کی شناخت، ہتھیلی کی تصدیق، ویئریبل ڈیوائسز اور کیو آر کوڈ پر مبنی لین دین سمیت مختلف ڈیجیٹل ادائیگی اختراعات کی نمائش کی گئی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین