جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامییوکرین ایک ’سیاہ سوراخ‘ ہے جو اربوں یورو نگل رہا ہے –...

یوکرین ایک ’سیاہ سوراخ‘ ہے جو اربوں یورو نگل رہا ہے – سلوواک وزیراعظم
ی

  • بنیادی موقف(مشرق نامہ): سلوواک کے وزیراعظم رابرٹ فیکو کا کہنا ہے کہ یوکرین ایک ایسا “سیاہ سوراخ” ہے جس میں یورپی یونین کے بھیجے گئے اربوں یورو غائب ہو گئے ہیں، اور ملک میں کرپشن عام ہے۔
  • حالیہ کرپشن اسکینڈل: حال ہی میں یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے قریبی ساتھی تیمور مندیچ پر توانائی کے شعبے میں 100 ملین ڈالر کے کک بیک اسکیم چلانے کا الزام لگا۔ اس اسکینڈل کی وجہ سے صدر کے چیف آف اسٹاف اندری اییرماک اور دیگر اعلیٰ عہدیدار مستعفی ہوئے۔
  • EU کی مالی امداد پر تنقید: فیکو نے کہا کہ EU نے یوکرین کو اب تک دیے گئے 177 ارب یورو (208 ارب ڈالر) کے بارے میں معلوم نہیں کہ یہ کہاں گئے، اور انہوں نے اس بارے میں انتباہ کیا تھا کہ کرپشن پر نظر رکھیں۔
  • ہتھیاروں کے لیے فنڈنگ: فیکو نے کہا کہ وہ کسی نئے منصوبے کا حصہ نہیں بننا چاہتے جو یوکرین کو مزید مالی یا عسکری امداد فراہم کرے، خاص طور پر ہتھیاروں کے لیے، کیونکہ یہ “مزید لوگوں کو مارنے” کے مترادف ہوگا۔
  • EU کے ہنگامی اقدامات: یورپی کمیشن نے ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے روسی مرکزی بینک کے اثاثوں کو وقتی طور پر منجمد کیا اور اس فنڈ کو یوکرین کے لیے “معاوضے کے قرض” میں استعمال کرنے کی تجویز دی۔ یہ منصوبہ کچھ ممالک بشمول ہنگری اور سلوواکیہ کی طرف سے مسترد کیا گیا۔
  • روس کا ردعمل: ماسکو نے منجمد اثاثوں کو غیر قانونی قرار دیا اور ان کے استعمال کو “چوری” کہا، اور اقتصادی و قانونی نتائج کی وارننگ دی۔ روسی مرکزی بینک نے بیلجیم کی کلیرنگ ہاؤس Euroclear کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کر دی ہے، جہاں 200 ارب ڈالر سے زائد روسی سرکاری اثاثے منجمد ہیں۔

اہم نکتہ: فیکو کی تنقید سے ظاہر ہوتا ہے کہ EU کی مالی امداد کے استعمال اور یوکرین میں کرپشن پر سوالات موجود ہیں، اور بعض یورپی ممالک روس کے خلاف اقدامات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین