- مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ریئٹرز کے ایک صحافی نے فیس بک اور انسٹاگرام پر اشتہارات بنائے جو انتہائی غیر حقیقی سرمایہ کاری کی واپسی (ہفتہ وار 10٪، سالانہ 14,000٪ سے زیادہ) کا وعدہ کر رہے تھے۔ یہ اشتہارات 20,000 سے زائد صارفین کے نیوز فیڈز میں نظر آئے، اور متعدد افراد نے دلچسپی ظاہر کی۔
- اعتماد شدہ ماہرین کا کردار: صحافی نے Meta کے “پارٹنر ڈائریکٹری” میں درج ایجنسیوں کی مدد سے اشتہارات چلائے۔ یہ ایجنسیز، جو Meta کی طرف سے “Badged Partner” کے طور پر تسلیم شدہ ہیں، بعض اوقات ممنوع اشتہارات چلانے کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔
- چین کی ایجنسیز: بڑے چینی پارٹنر ایجنسیز اکثر ثالثوں کے ساتھ کام کرتی ہیں جو Meta کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ Meta نے اندرونی طور پر اس نظام میں بڑے پیمانے پر غلط استعمال کو تسلیم کیا اور اکثر اس کی نرمی برتی، جس سے اسے اربوں ڈالر کا فائدہ ہوا۔
- اشتہارات کا تجربہ: صحافی نے فرضی ویب سائٹ اور فیس بک صفحات بنائے اور ایجنسیوں کے ذریعے اشتہارات چلائے۔ Meta کا AI سسٹم اشتہارات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف ورژنز بھی تجویز کرتا رہا۔
- نتائج: صرف چار دن میں اشتہارات پر 100 سے زائد کلکس آئے اور درجنوں افراد نے معلومات کے لیے رابطہ کیا۔ صحافی نے سب کو بتایا کہ یہ اشتہار صرف رپورٹنگ کے لیے تھا اور وعدے حقیقت پر مبنی نہیں تھے۔
- Meta کی ردعمل: ریئٹرز کے شواہد پیش کرنے کے بعد، Meta نے اپنی پارٹنر ڈائریکٹری کو حذف کر دیا اور کچھ پارٹنرز اور پروگرام کا جائزہ لینے کا اعلان کیا۔
اہم نکتہ: رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ Meta کے پلیٹ فارم پر اسکیم اشتہارات آسانی سے چلائے جا سکتے ہیں، اور بعض سرکاری تسلیم شدہ پارٹنرز اس میں مدد فراہم کرتے ہیں، جس سے سوشل میڈیا کمپنی کے قواعد و ضوابط پر سوال اٹھتا ہے اور صارفین کی حفاظت پر خدشات پیدا ہوتے ہیں

