- “مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ٹیک پراسپیریٹی ڈیل” ستمبر میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کے دوران طے پایا تھا۔ اس کا مقصد مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، اور سول نیوکلئر توانائی میں تعاون بڑھانا تھا، جس میں مائیکروسافٹ، گوگل، NVIDIA، اور OpenAI نے برطانیہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا۔
- معطلی کی وجہ: امریکہ نے معاہدے کے نفاذ کو روک دیا ہے کیونکہ وہ برطانیہ کے ڈیجیٹل قوانین، آن لائن سیفٹی قواعد، ڈیجیٹل سروسز ٹیکس، اور خوراک کے معیار پر تحفظات رکھتا ہے۔
- برطانیہ کا موقف: برطانوی حکام نے کہا ہے کہ وہ ڈیجیٹل قوانین یا خوراک کے معیار میں سمجھوتہ نہیں کریں گے اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات مضبوط ہیں۔ وزیر اعظم کیر اسٹارمر کے دفتر نے کہا کہ یہ “زندہ مذاکرات” ہیں اور ایسے پیچیدہ معاہدوں میں یہ معمول کی بات ہے۔
- تجارتی سیاق و سباق: برطانیہ نے مئی میں بعض امریکی ٹیرفز کم کرنے پر اصولی طور پر اتفاق کیا تھا، مگر پیش رفت سست رہی، خاص طور پر اسٹیل کے شعبے میں۔ اس ماہ کے شروع میں دوا سازی کے شعبے میں ایک فریم ورک ڈیل طے پائی تھی۔
- آئندہ کے اقدامات: دونوں ممالک جنوری میں مزید مذاکرات جاری رکھیں گے، جس میں برطانوی وزیر تجارت پیٹر کائل نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے پر عمل درآمد کی رفتار برقرار رکھی جائے۔
اہم نکتہ: یہ معطلی ظاہر کرتی ہے کہ تجارتی اہداف اور قومی قواعد و ضوابط کے درمیان توازن برقرار رکھنا کتنا اہم اور مشکل ہے، یہاں تک کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے قریبی اتحادیوں کے لیے بھی۔

