جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا جنگ بندی کی خلاف ورزی کے...

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا جنگ بندی کی خلاف ورزی کے طور پر حماس کے سینئر عہدیدار کے اسرائیلی قتل کی تحقیقات کرے گا
ٹ

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ امریکا اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حماس کے ایک سینئر عہدیدار کو قتل کیا ہے یا نہیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز مغربی غزہ شہر میں النابلسی اسکوائر کے قریب ایک گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں رعد سعد تین دیگر افراد کے ساتھ مارا گیا۔

رعد سعد، حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے سینئر رکن تھے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وہ گروپ کے تازہ ترین فوجی سربراہ عزالدین الحداد کے بعد دوسرے نمبر پر سمجھے جاتے تھے۔

اسرائیل نے 10 اکتوبر کو طے پانے والی جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزی کی ہے، جس کی ضمانت مصر، قطر اور امریکا نے دی تھی۔

غزہ کے حکومتی میڈیا آفس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 350 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی تعداد کم از کم 738 بتائی جا رہی ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں داخل ہونے والی امداد اور طبی سامان کی مقدار میں شدید پابندیاں عائد کر دی ہیں اور مصر کے ساتھ غزہ کی رفح سرحدی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے سے بھی روک رکھا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ عمومی طور پر ان خلاف ورزیوں پر عوامی سطح پر خاموش رہی ہے، تاہم سعد کے قتل نے جنگ بندی کو آگے بڑھانے سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مڈل ایسٹ آئی نے اکتوبر میں رپورٹ کیا تھا کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں حماس کے سینئر عہدیداروں، جن میں خلیل الحیہ بھی شامل تھے، سے ملاقات کی اور حماس کی قیادت کو جنگ کے خاتمے کی ذاتی ضمانت دی تھی۔

جب ٹرمپ سے اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں کو کم اہمیت دی جن میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے ہم منصب سے ناراض ہیں۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

’’اسرائیل اور میرے تعلقات بہت اچھے رہے ہیں۔ ببی نیتن یاہو کے ساتھ میرا تعلق بلاشبہ بہت اچھا رہا ہے۔‘‘

’متبادل محفوظ بستیاں‘

ٹرمپ انتظامیہ نے کشنر کے قریبی اتحادیوں کو تل ابیب بھیجا ہے تاکہ ایسے منصوبے پر کام کیا جا سکے جس کے تحت غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور اسرائیلی قبضے والے علاقے میں نام نہاد ’’متبادل محفوظ بستیاں‘‘ تعمیر کی جائیں۔

اسرائیل نے غزہ کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے، جبکہ اس کی افواج عملی طور پر غزہ کی تقریباً 50 فیصد زمین پر قابض ہیں۔

غزہ کو تقسیم کرنے کے ان منصوبوں نے قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، مصر اور ترکی جیسے ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ٹرمپ کو غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس تعینات کرنے کے لیے ان ممالک کی سیاسی، معاشی اور افرادی قوت کی حمایت درکار ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر میں اس فورس کے لیے مینڈیٹ کی منظوری دی تھی، تاہم یہ فورس تاحال تعینات نہیں ہو سکی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ توقع ہے یہ فورس 2026 میں تیار ہو جائے گی، لیکن ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ فورس پہلے ہی کام کر رہی ہے۔ مڈل ایسٹ آئی نے پیر کے روز تین مغربی اور عرب حکام اور تجزیہ کاروں سے بات کی، تاہم کسی کو بھی فورس کے عملی طور پر سرگرم ہونے کی اطلاع نہیں تھی۔

ٹرمپ نے کہا:

’’میرے خیال میں ایک صورت میں یہ پہلے ہی چل رہی ہے۔ مزید سے مزید ممالک اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ وہ پہلے ہی شامل ہیں، اور جتنے فوجی میں کہوں گا، وہ بھیج دیں گے۔‘

مقبول مضامین

مقبول مضامین