جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیطوفان سے متاثرہ غزہ میں سردی اور عمارتیں گرنے سے کم از...

طوفان سے متاثرہ غزہ میں سردی اور عمارتیں گرنے سے کم از کم 11 افراد جاں بحق
ط

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ایمرجنسی کارکن ہزاروں ہنگامی کالز پر قابو پانے کی جدوجہد کر رہے ہیں؛ درجن سے زائد عمارتیں منہدم اور 27 ہزار خیمے تباہ

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران طوفان سے متاثرہ غزہ میں سردی اور عمارتوں کے گرنے کے باعث کم از کم 11 فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔

طبی ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز غزہ شہر میں سردی کے باعث دو بچے—نو سالہ ہادیل حمدان اور ایک شیر خوار تیم خواجہ—جاں بحق ہوئے۔

ایک اور بچی، آٹھ ماہ کی رحف ابو جزار، جمعرات کو خان یونس میں اس وقت دم توڑ گئی جب رات کے طوفان کے دوران بارش کا پانی اس کے خاندان کے خیمے میں داخل ہو گیا۔

شمالی غزہ کے علاقے بیت لاہیا میں سیلاب اور تیز ہواؤں کے باعث ایک متاثرہ گھر منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔

مزید دو اموات غزہ شہر کے مغرب میں الریمال محلے میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر دیوار گرنے سے ہوئیں۔ شمالی غزہ کے الشاطی مہاجر کیمپ میں بھی دیوار گرنے سے ایک اور ہلاکت رپورٹ ہوئی۔

غزہ میں قائم حکومتی میڈیا آفس کے مطابق مجموعی طور پر کم از کم 13 عمارتیں—جو پہلے ہی اسرائیلی بمباری سے جزوی طور پر متاثر تھیں—شدید بارش اور تیز ہواؤں کے باعث منہدم ہو گئیں۔ کچھ افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ کئی زخمی ہیں۔

ادھر سیلاب اور تیز ہواؤں سے 27,000 سے زائد خیمے تباہ یا بہہ گئے ہیں۔ بارش، سیلاب اور گرتی پناہ گاہوں سے 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ بے گھر افراد متاثر ہوئے ہیں۔

وزارتِ داخلہ و قومی سلامتی کے مطابق اس ہفتے کے آغاز میں طوفان شروع ہونے کے بعد سے پورے غزہ میں 4,300 سے زائد ہنگامی کالز موصول ہو چکی ہیں۔

محدود وسائل کے باوجود وزارت نے کہا کہ سول ڈیفنس کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں اور پولیس عوام کی مدد کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں۔

طوفان بائرن نے اس ہفتے کے آغاز میں فلسطین اور اسرائیل کو متاثر کیا اور توقع ہے کہ یہ جمعہ تک جاری رہے گا۔ اس کے اثرات غزہ میں نہایت تباہ کن رہے ہیں، جہاں تقریباً 15 لاکھ افراد خیموں میں رہائش پذیر ہیں، جبکہ باقی 7 لاکھ کے قریب لوگ جزوی طور پر تباہ شدہ عمارتوں میں مقیم ہیں۔

دو برس کی مسلسل بمباری کے بعد، جس سے رہائشی عمارتوں کا تقریباً 92 فیصد حصہ متاثر یا تباہ ہو چکا ہے، اسرائیل نے جنگ سے تباہ حال غزہ میں خیموں اور موبائل گھروں کے داخلے کو روک رکھا ہے۔

یہ اقدام اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت اسرائیل کو غزہ میں 3 لاکھ خیمے اور موبائل گھر داخل کرنے کی اجازت دینا تھی۔

طوفان سے قبل انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور صحت کے حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر غزہ میں پناہ گاہوں کی اجازت نہ دی گئی تو بے گھر افراد کے لیے “تباہ کن نتائج” سامنے آ سکتے ہیں

مقبول مضامین

مقبول مضامین