مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)یورپی رہنماؤں نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ یوکرین کے ممکنہ طور پر روس کو علاقائی رعایتیں دینے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ صرف اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب مضبوط سکیورٹی ضمانتیں موجود ہوں، جن میں یورپ کی قیادت میں ایک کثیر القومی فورس شامل ہونی چاہیے۔
یہ بیان 10 یورپی رہنماؤں اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیئن کی جانب سے جاری کیا گیا، جو برلن میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ اس ملاقات کا مقصد امریکا اور یوکرین کے مذاکرات کاروں کے درمیان جاری امن مذاکرات کی حمایت کرنا تھا، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کے سب سے ہلاکت خیز تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بیان میں ان سکیورٹی ضمانتوں کی وضاحت کی گئی جنہیں رہنماؤں نے ضروری قرار دیا۔ اس کے مطابق یوکرین کو اپنے مسلح افواج کی تعداد تقریباً 8 لاکھ (800,000) برقرار رکھنے کے قابل ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ تنازع کو روکا جا سکے۔
مزید یہ کہ یورپ کو امریکا کی حمایت کے ساتھ رضامند ممالک کے تعاون سے ایک ’کثیر القومی فورس برائے یوکرین‘ تشکیل دینی چاہیے۔
بیان میں کہا گیا:
’’یہ فورس یوکرین کی افواج کی بحالی، یوکرین کی فضائی حدود کے تحفظ، اور محفوظ سمندری راستوں کی حمایت میں مدد دے گی، جس میں یوکرین کے اندر کارروائیاں بھی شامل ہوں گی۔‘‘
سکیورٹی ضمانتوں میں امریکا کی قیادت میں جنگ بندی کی نگرانی کا ایک نظام بھی شامل ہوگا، جو کسی بھی ممکنہ مستقبل کے حملے کی بروقت نشاندہی کرے گا اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں ردِعمل دے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا:
’’علاقے سے متعلق فیصلے یوکرین کے عوام کا حق ہیں، اور یہ فیصلے اس وقت کیے جائیں گے جب مؤثر اور مضبوط سکیورٹی ضمانتیں عملی طور پر موجود ہوں۔‘‘
دوسری جانب، ایک باخبر اہلکار کے مطابق امریکی مذاکرات کاروں نے پیر کے روز علیحدہ طور پر یوکرین کو بتایا کہ روس کے ساتھ تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے کسی بھی معاہدے کے تحت یوکرین کو مشرقی ڈونیٹسک کے علاقے سے اپنی افواج واپس بلانے پر رضامند ہونا ہوگا

