جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیچینی مندوب نے جاپان سے تائیوان سے متعلق اپنے غلط بیانات واپس...

چینی مندوب نے جاپان سے تائیوان سے متعلق اپنے غلط بیانات واپس لینے کا مطالبہ کیا
چ

مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)چین کے مستقل نمائندے برائے اقوامِ متحدہ فو کونگ نے پیر کے روز ایک بار پھر جاپانی وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی سے مطالبہ کیا کہ وہ چین کے تائیوان خطے سے متعلق اپنے غلط بیانات واپس لیں۔ فو کونگ یہ بات اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ’’امن کے لیے قیادت‘‘ کے موضوع پر ہونے والی کھلی بحث کے دوران کہہ رہے تھے۔

فو کونگ نے کہا کہ امن کے لیے قیادت کا تقاضا ہے کہ امن کی قدر کی جائے اور انصاف کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ رواں سال جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ اور عالمی فسطائیت کے خلاف جنگ میں فتح کی 80ویں سالگرہ ہے۔ تاہم ایسے وقت میں جب عالمی برادری تاریخ پر غور کر رہی ہے، جاپانی وزیرِ اعظم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جاپان کی نام نہاد ’’بقا کو لاحق خطرے کی صورتِ حال‘‘ کا تعلق چین کے تائیوان خطے سے ہے، جس سے ممکنہ فوجی مداخلت کا اشارہ ملتا ہے۔

فو کونگ کے مطابق ایسے بیانات چین کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت ہیں، دوسری جنگِ عظیم میں شکست خوردہ ملک کے طور پر جاپان کے وعدوں کی خلاف ورزی ہیں، جنگ اور جنگ کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی نظام کے نتائج کو چیلنج کرتے ہیں، اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کے منافی ہیں، جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ دوسری جنگِ عظیم کے اسباق بالکل واضح ہیں۔ اسی برس پہلے جاپانی عسکریت پسندی نے ’’بقا کے بحران‘‘ اور ’’خود دفاع‘‘ کے بہانوں سے جارحیت کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں چین، ایشیا اور دنیا کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ فو کونگ نے کہا کہ چین عسکریت پسندی یا فسطائیت کے دوبارہ ابھرنے کی اجازت نہیں دے گا، اور جاپان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیانات واپس لے، اپنی تاریخ پر سنجیدگی سے غور کرے اور غلط راستے پر مزید آگے بڑھنے سے باز رہے۔

فو کونگ نے اس بات کی بھی توثیق کی کہ تائیوان چین کے علاقے کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے، اور یہ کہ جاپان کی جانب سے غیر قانونی طور پر قبضہ کیے گئے تائیوان کی چین کو واپسی جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کا ایک بنیادی عنصر ہے۔ یہ حقیقت 1945 میں جاپان کی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے بعد باضابطہ طور پر طے پائی، اور اسے قاہرہ اعلامیہ، پوٹسڈیم اعلامیہ، جاپانی دستاویزِ ہتھیار ڈالنا، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758 اور چین۔جاپان سیاسی معاہدوں سمیت متعدد بین الاقوامی قانونی دستاویزات میں تسلیم کیا گیا ہے

مقبول مضامین

مقبول مضامین