مشرقِ وسطیٰ(مشرق نامہ): بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے اپیلز چیمبر نے غزہ میں جرائم سے متعلق اپنی تحقیقات کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کے اسرائیلی دلائل مسترد کر دیے ہیں۔ یہ تحقیقات اس نسل کش جنگ کے بعد کی جا رہی ہیں جو اسرائیلی حکومت نے 7 اکتوبر 2023 کو محصور غزہ کے عوام کے خلاف شروع کی تھی۔
یہ فیصلہ پیر کے روز ایسے وقت سامنے آیا جب فلسطین میں جنگی جرائم سے متعلق جاری تحقیقات کے نتیجے میں اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کے وزیرِ جنگ یوآف گیلنٹ کے خلاف غزہ میں کی گئی نسل کش جنگ کے دوران ’’انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم‘‘ کے الزامات پر وارنٹِ گرفتاری جاری کیے جا چکے ہیں۔
اسرائیل نے ان وارنٹس کو منسوخ کرانے کے لیے متعدد کوششیں کیں، جن میں آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کی غیر جانب داری پر سوال اٹھانا اور عدالت کے دائرۂ اختیار کو چیلنج کرنا شامل تھا۔ فلسطین کی جانب سے 2021 میں دی گئی درخواست کے بعد شروع ہونے والی آئی سی سی کی تحقیقات کو حال ہی میں مزید سات ممالک کی درخواستوں کے بعد وسعت دی گئی ہے۔
اسرائیل کا مؤقف تھا کہ روم اسٹیٹیوٹ کے آرٹیکل 18(1) کے تحت نئی تحقیقات کے بارے میں اسے باضابطہ طور پر مطلع کیا جانا چاہیے تھا۔ تاہم آئی سی سی نے فیصلہ دیا کہ 7 اکتوبر کے بعد کے واقعات کی تحقیقات 2021 میں جاری کیے گئے ابتدائی نوٹس کے دائرے میں ہی آتی ہیں، اس لیے کسی نئے نوٹس کی ضرورت نہیں۔
قانونی ماہرین، جن میں یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے پروفیسر کیون جان ہیلر بھی شامل ہیں، نے اپیلز چیمبر کے فیصلے کو سراہا اور اسرائیل کے دعوؤں کو مسترد کرنے پر عدالت کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل تکمیلیت (Complementarity) کے اصول کو استعمال کر سکتا تھا، مگر اس کے بجائے اس نے یہ دعویٰ کیا کہ آئی سی سی کو دائرۂ اختیار ہی حاصل نہیں۔
ہیلر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا:
’’اسرائیل کو اب آرٹیکل 18(1) کی پروا اس لیے ہے کیونکہ پراسیکیوٹر نے وہ کام کر دکھایا جس کے بارے میں اسرائیل کو یقین تھا کہ وہ نہیں کرے گا، یعنی اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے خلاف وارنٹِ گرفتاری طلب کرنا۔‘‘
انہوں نے مزید لکھا:
’’اپیلز چیمبر کو داد کہ اس نے اسرائیل کے بے بنیاد دلائل کو سمجھتے ہوئے اپیل مسترد کر دی۔‘‘
’’یہ بھی قابلِ تحسین ہے کہ اپیلز چیمبر نے قانون پر عمل کرتے ہوئے جرات مندی سے اسرائیل کی اپیل رد کی۔ امید ہے کہ اس کے نتیجے میں امریکا کی جانب سے پابندیوں کا ایک اور سلسلہ شروع نہیں ہوگا۔‘‘
آئی سی سی، جو 125 رکن ممالک پر مشتمل ایک مستقل جنگی جرائم کی عدالت ہے، کو طویل عرصے سے امریکی حکام کی تنقید کا سامنا ہے، جو اسے قومی خودمختاری میں مداخلت قرار دیتے ہیں۔
تازہ فیصلے کے مزید اثرات بھی سامنے آئے ہیں، کیونکہ اسرائیلی جنگی جرائم سے متعلق آئی سی سی کی تحقیقات کے نتیجے میں ماضی میں امریکا کی جانب سے عدالت کے اہم عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔
یہ پابندیاں کاروباری اداروں اور افراد کو متنبہ کرتی ہیں کہ اگر وہ پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد کو کسی قسم کی مدد فراہم کریں گے تو انہیں بھاری جرمانوں اور قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے باعث کئی اداروں نے اپنی خدمات واپس لے لی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ پابندیاں نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف وارنٹِ گرفتاری پر عدالت پر دباؤ ڈالنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔
جولائی میں میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو خبردار کیا گیا کہ اگر وارنٹس واپس نہ لیے گئے تو انہیں اور آئی سی سی کو ’’تباہ‘‘ کر دیا جائے گا۔
امریکی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی خان کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے وارنٹس کے لیے درخواست دی تو ان پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
مئی میں خان کے دفتر نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے خلاف جنسی بدسلوکی کے الزامات پر اقوامِ متحدہ کی زیرِ قیادت تحقیقات مکمل ہونے تک عارضی رخصت پر جا رہے ہیں۔ ان کے وکلا کا کہنا تھا کہ خان نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور شدید میڈیا دباؤ کے باعث صرف عارضی طور پر علیحدگی اختیار کی ہے۔
اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج نے غزہ میں جاری دو سالہ جنگ کے دوران 70,400 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ 171,000 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ اس جنگ نے محصور فلسطینی علاقے کے بڑے حصے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی اور مغربی ممالک کی سرپرستی میں اسرائیلی حکومت نے محصور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے

