دنیا(مشرق نامہ): وینزویلا نے یورپی کونسل کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے جس کے تحت ملک پر عائد پابندیوں کو 2027 تک بڑھا دیا گیا ہے۔ وینزویلا نے ان اقدامات کو ’’بے سود‘‘، ’’مکمل ناکامی‘‘ اور عالمی امور میں یورپی یونین کی خودمختاری کے فقدان کی علامت قرار دیا ہے۔
وزیرِ خارجہ ایوان گل پنٹو کی جانب سے جاری بیان میں وینزویلا کی حکومت نے کہا کہ یہ پابندیاں جابرانہ ہیں، بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں اور ایک ایسی ’’غیر مستحکم خارجہ پالیسی‘‘ کی عکاس ہیں جس میں خودمختاری کا فقدان ہے۔ بیان میں یورپی یونین کو ایک عالمی کردار کے طور پر بتدریج غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید بھی کی گئی۔
یورپی کونسل، جو یورپی یونین کا سیاسی بازو سمجھی جاتی ہے، نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ پابندیوں میں 10 جنوری 2027 تک توسیع کرے گی۔ کونسل نے الزام عائد کیا کہ صدر نکولس مادورو کی حکومت کے تحت ’’جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے والے مسلسل اقدامات‘‘ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
یہ پابندیاں پہلی بار 2017 میں عائد کی گئی تھیں، جن میں اسلحے اور فوجی سازوسامان پر پابندی، ہلکے ہتھیاروں، گولہ بارود اور نگرانی کی ٹیکنالوجی جیسی اشیا کی برآمدات پر قدغن، نیز متعدد افراد پر سفری پابندیاں اور اثاثے منجمد کرنا شامل ہے۔
یورپی یونین کے مطابق رواں سال جنوری تک 69 افراد کے اثاثے منجمد تھے اور ان پر سفری پابندیاں عائد تھیں۔
کونسل کا کہنا تھا کہ پابندیاں اٹھانے سے قبل وینزویلا کو انسانی حقوق اور جمہوری معیارات سے متعلق اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔
تاہم کراکس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پابندیاں پہلے ہی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں اور یہ صرف یورپی یونین کی آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت کے فقدان کو نمایاں کرتی ہیں۔ اس سے مراد برسلز کی جانب سے امریکا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے لاطینی امریکی ملک پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں ہیں۔
پابندیوں میں توسیع ایسے وقت میں کی گئی ہے جب واشنگٹن کی جانب سے دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے وینزویلا کے ساحل کے قریب افواج تعینات کر رکھی ہیں اور زمینی حملوں کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے وینزویلا کے اندر اور اردگرد امریکی افواج کی تعیناتی کو منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کی وسیع تر کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے، تاہم کراکس اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل مقصد صدر نکولس مادورو کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔
فوجی دھمکیوں کے علاوہ واشنگٹن نے وینزویلا پر مزید پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔ حالیہ اقدام کے طور پر ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو کے تین بھانجوں اور چھ آئل ٹینکروں اور شپنگ کمپنیوں پر مالی پابندیوں کا اعلان کیا ہے

