— مشرقِ وسطیٰ)مشرق نامہ): فلسطینی طبی حکام کے مطابق اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے جنوبی حصے میں چھاپے کے دوران ایک فلسطینی کم عمر نوجوان کو ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ اسرائیلی قبضے والے علاقے میں حالیہ دنوں میں تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر کے دوران پیش آنے والا تازہ مہلک واقعہ ہے۔
سرکاری فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا (WAFA) نے تقوع ٹاؤن کونسل کے سربراہ تیسیر ابو مفرح کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی قابض افواج نے پیر کی رات دیر گئے قصبے پر دھاوا بولا، اس کے مرکز میں پوزیشنیں سنبھالیں اور ’’اندھا دھند‘‘ فائرنگ شروع کر دی۔
مقامی ذرائع کے مطابق علاقے پر اسرائیلی فورسز کے چھاپے اور شدید براہِ راست فائرنگ کے بعد قصبے میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران ایک فلسطینی نوجوان کے سینے میں گولی لگی۔
طبی حکام نے شہید کی شناخت عمار یاسر صباح کے نام سے کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 17 سالہ عمار صباح کو ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی صحت مرکز منتقل کیا گیا، تاہم وہ شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کچھ ہی دیر بعد شہید ہو گیا۔
علاوہ ازیں، اسرائیلی قابض افواج نے پیر کی رات القدس کے شمال مشرق میں واقع قصبے الرام میں ایک نوجوان کو گولی مار کر زخمی کر دیا۔
فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (PRCS) کے مطابق نوجوان کو متنازعہ علیحدگی دیوار کے قریب گھٹنے میں براہِ راست گولی ماری گئی، جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اس سے قبل بھی اسرائیلی فورسز نے الرام میں اسی دیوار کے قریب ایک اور نوجوان فلسطینی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں اس کے دونوں پاؤں زخمی ہو گئے۔
اکتوبر 2023 میں غزہ کی تباہ کن جنگ کے آغاز کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافہ اور آبادکاروں کی جانب سے پرتشدد واقعات میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں ساحلی علاقے میں 70 ہزار سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
اس کے بعد سے اب تک مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں کے باعث 1,085 سے زائد فلسطینی شہید اور 10,700 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 20,500 سے زائد افراد کو قابض افواج نے حراست میں لیا ہے۔
کئی ماہ سے انسانی حقوق کی تنظیمیں مغربی کنارے میں جاری تشدد کے تناظر میں فلسطینیوں کو درپیش نسلی تطہیر کے بڑھتے ہوئے خطرات پر خبردار کر رہی ہیں۔
جولائی 2024 میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) نے تاریخی فلسطین پر اسرائیل کے طویل قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں قائم تمام بستیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا

