جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیچین کا اطلاقی علوم میں عالمی تحقیقی غلبہ، نیچر انڈیکس

چین کا اطلاقی علوم میں عالمی تحقیقی غلبہ، نیچر انڈیکس
چ

بیجنگ (مشرق نامہ) – اطلاقی علوم میں نیچر انڈیکس کی پہلی مرتبہ جاری ہونے والی درجہ بندی میں چینی تحقیقی اداروں نے غیر معمولی برتری حاصل کرتے ہوئے نہ صرف سرفہرست دس بلکہ ٹاپ تیس کی تمام پوزیشنز اپنے نام کر لیں، جس سے اس شعبے میں چین کی مکمل بالادستی نمایاں ہو گئی۔

چین کی سب سے بڑی تحقیقی تنظیم، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز (سی اے ایس)، اس درجہ بندی میں پہلے نمبر پر رہی، جبکہ ژی جیانگ یونیورسٹی نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق، فہرست میں شامل ہونے والا پہلا غیر چینی ادارہ نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور تھا، جو اکتیسویں نمبر پر رہا۔

اطلاقی علوم میں نیچر انڈیکس کی اس پہلی درجہ بندی کے مطابق، چین میں قائم محققین نے مجموعی عالمی تحقیقی پیداوار کا 56 فیصد حصہ فراہم کیا، جس کا شیئر 22,261 رہا۔ امریکہ 4,099 کے شیئر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جو سالانہ مجموعی پیداوار کا محض 10 فیصد بنتا ہے۔ اس کے بعد جرمنی، جنوبی کوریا، برطانیہ، جاپان اور بھارت بالترتیب شامل ہیں۔ یوں چین کی اطلاقی علوم میں تحقیقی پیداوار اکیلے ہی دوسرے سے ساتویں نمبر پر موجود چھ ممالک کے مجموعی حصے سے زیادہ ہے۔

یہ درجہ بندی گزشتہ سال 25 اطلاقی علوم کے جرائد اور کانفرنسوں میں شائع ہونے والے تحقیقی مضامین پر مبنی ہے، جنہیں تقریباً 4,200 محققین کے ایک سروے میں وہ مقامات قرار دیا گیا جہاں وہ اپنا سب سے اہم تحقیقی کام شائع کرنا پسند کریں گے۔ تجزیے میں بنیادی پیمانہ “شیئر” استعمال کیا گیا، جو اشاعت میں ادارہ جاتی شراکت کو جزوی انداز میں ظاہر کرتا ہے، جبکہ وقت کے ساتھ ڈیٹا کو 2024 کی سطح کے مطابق ہم آہنگ کیا گیا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین