اسلام آباد (مشرق نامہ) – حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے تناظر میں پیر کے روز ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، جس کا اطلاق 16 دسمبر سے ہوگا۔
حالیہ کمی کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 265 روپے 65 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو اس سے قبل 279 روپے 65 پیسے فی لیٹر تھی۔ اس کے برعکس، حکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار رکھتے ہوئے اسے 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر پر ہی قائم رکھا ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، جس کے باعث اس کی قیمت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی براہِ راست اشیائے صرف اور زرعی لاگت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے فی لیٹر کی نمایاں کمی کو عوامی سطح پر خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے مہنگائی کے دباؤ میں کسی حد تک کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، پیٹرول کی قیمت میں کوئی کمی نہ ہونے کے باعث موٹر سائیکل اور گاڑی استعمال کرنے والے صارفین کو خاطر خواہ ریلیف نہیں ملا۔ پیٹرول کو سی این جی کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے، اور پنجاب میں سی این جی اسٹیشنز پر مقامی گیس کی فراہمی پر پابندی کے بعد اس کی کھپت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ صوبے میں سی این جی اسٹیشنز اب درآمد شدہ گیس پر انحصار کر رہے ہیں، جو نمایاں طور پر مہنگی ہے۔
تیل کی صنعت کی جانب سے موجودہ ٹیکس شرحوں کی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا تھا کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں زیادہ سے زیادہ 11 روپے 85 پیسے فی لیٹر، یعنی تقریباً 4.2 فیصد کمی ہو سکتی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 36 پیسے فی لیٹر یا 0.1 فیصد کمی متوقع تھی۔
9 دسمبر کو وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کی منافع بخش صلاحیت بہتر بنانے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر 2 روپے 56 پیسے فی لیٹر اضافی مارجن کی منظوری دی تھی۔
اگرچہ تمام پٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس صفر ہے، تاہم صارفین اب بھی بھاری پٹرولیم لیوی اور کلائمٹ سپورٹ لیوی ادا کر رہے ہیں۔ دسمبر کے پہلے پندرہ دنوں کے دوران صارفین نے ڈیزل پر 78 روپے فی لیٹر اور پیٹرول و ہائی آکٹین مصنوعات پر 82 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی ادا کی، جس میں 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر کلائمٹ سپورٹ لیوی شامل تھی۔
حکومت نے مالی سال 2024-25 کے دوران صرف پٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1,161 ارب روپے وصول کیے، جبکہ موجودہ مالی سال میں اس وصولی میں تقریباً 27 فیصد اضافے کے ساتھ 1,470 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
ایل این جی کی قیمتیں
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیر کے روز دسمبر کے لیے ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔
اوگرا کے مطابق، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے لیے آر ایل این جی کی ٹرانسمیشن قیمت 10.9186 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے، جبکہ ڈسٹری بیوشن قیمت 11.8280 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو رکھی گئی ہے۔ یہ نومبر 2025 کے مقابلے میں ٹرانسمیشن میں 0.5119 ڈالر (4.48 فیصد) اور ڈسٹری بیوشن میں 0.5716 ڈالر (4.61 فیصد) کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے لیے آر ایل این جی کی ٹرانسمیشن قیمت 9.4741 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور ڈسٹری بیوشن قیمت 10.7767 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں بالترتیب 0.5911 ڈالر (5.87 فیصد) اور 0.6753 ڈالر (5.90 فیصد) کم ہے۔
اوگرا کا کہنا ہے کہ آر ایل این جی کی قیمتوں میں یہ کمی وفاقی حکومت کی پالیسی ہدایات کے مطابق کی گئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ ڈیلیورڈ ایکس شپ (ڈی ای ایس) قیمت میں کمی ہے۔

