جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستاناسٹیٹ بینک نے شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کر کے...

اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کر کے 10.5 فیصد کر دی
ا

اسلام آباد (مشرق نامہ) – اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پیر کے روز اپنی مانیٹری پالیسی کے تحت پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد کر دیا، جس کا اطلاق 16 دسمبر سے ہوگا۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کے ابتدائی پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران اوسط مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں رہی، تاہم بنیادی مہنگائی نسبتاً سخت (اسٹکی) ثابت ہوئی۔

بیان کے مطابق مجموعی طور پر مہنگائی کے منظرنامے میں بڑی تبدیلی نہیں آئی، جس کی بنیادی وجوہات عالمی سطح پر اشیائے صرف کی نسبتاً سازگار قیمتیں اور مستحکم مہنگائی توقعات ہیں، جبکہ محتاط مانیٹری پالیسی نے بھی اس توازن کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا ہے۔

ایم پی سی نے مشاہدہ کیا کہ معیشت میں سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، جس کا اظہار بلند فریکوئنسی معاشی اشاریوں میں بہتری سے ہوتا ہے، بالخصوص مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار میں توقع سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تاہم کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عالمی ماحول بدستور چیلنجنگ ہے، خاص طور پر برآمدات کے حوالے سے، جس کے معیشت کے مجموعی منظرنامے پر کچھ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں، قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے، کمیٹی نے پائیدار معاشی نمو کے لیے شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہونے کا جائزہ لیا۔

کمیٹی نے اپنی گزشتہ میٹنگ (مئی) کے بعد ہونے والی چند اہم پیش رفتوں کی طرف بھی توجہ دلائی، جن میں 2020-21 کے بعد بیروزگاری کی شرح میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، بھاری قرضوں کی ادائیگیاں اور صارفین کے اعتماد میں اضافہ شامل ہیں، تاہم کاروباری اعتماد میں معمولی کمی دیکھی گئی۔

بیان کے مطابق، اسٹیٹ بینک کی جانب سے منافع کی خطیر منتقلی کے باعث مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی اور بنیادی مالیاتی توازن سرپلس میں رہے۔ عالمی ماحول کو متغیر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگرچہ عالمی اجناس کی قیمتیں مجموعی طور پر معاون ہیں، تاہم ٹیرف سے متعلق بدلتی صورتحال اور سخت مالی حالات چیلنجز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ایم پی سی نے کہا کہ بلند فریکوئنسی اشاریے مختلف شعبوں، خصوصاً بڑے پیمانے کی صنعتوں میں سرگرمیوں کے تسلسل کی تصدیق کرتے ہیں۔ گاڑیوں، کھاد اور سیمنٹ کی فروخت کے ساتھ ساتھ مشینری اور درمیانی خام مال کی درآمدات صنعتی سرگرمیوں کے مثبت امکانات کی عکاسی کرتی ہیں، تاہم برآمدات کو درپیش مشکلات صنعتی منظرنامے کے لیے خطرات بھی پیدا کر رہی ہیں۔

زرعی شعبے کے حوالے سے کمیٹی نے کہا کہ بڑی فصلوں سے متعلق موصول ہونے والی معلومات گزشتہ جائزے کی تائید کرتی ہیں۔ گندم کے زیرِ کاشت رقبے، پیداواری وسائل کی دستیابی اور حکومتی مراعاتی اسکیموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ گندم کی پیداوار مقررہ ہدف سے تجاوز کر سکتی ہے۔

کمیٹی کے مطابق یہ مثبت عوامل خدمات کے شعبے کو بھی سہارا دیں گے اور مالی سال 2026 میں حقیقی جی ڈی پی نمو 3.25 سے 4.25 فیصد کی پیش گوئی شدہ حد کے بالائی حصے میں رہنے کی توقع ہے۔

بیرونی شعبے کے بارے میں ایم پی سی نے کہا کہ جولائی تا اکتوبر مالی سال 2026 کے دوران جاری کھاتے کا مجموعی خسارہ 0.7 ارب ڈالر رہا، جو اندازوں کے مطابق ہے۔ بہتر معاشی سرگرمیوں کے باعث درآمدات میں اضافہ ہوا، جبکہ ترسیلاتِ زر مستحکم رہیں، تاہم خوراک، بالخصوص چاول کی برآمدات میں نمایاں کمی کے باعث برآمدات دباؤ کا شکار رہیں۔

مالیاتی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ خالص سرمائے کی آمد کمزور رہی، تاہم اس کے باوجود اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر دسمبر 2025 کے مقررہ ہدف 15.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے، جس کی بنیادی وجہ مرکزی بینک کی جانب سے مسلسل زرمبادلہ کی خریداری ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بدلتی ہوئی عالمی تجارتی حرکیات پاکستان کی برآمدات کو محدود کر سکتی ہیں، جبکہ عالمی سطح پر تیل کی کم قیمتیں درآمدی دباؤ کو کسی حد تک قابو میں رکھ سکتی ہیں۔ مجموعی طور پر جاری کھاتے کا منظرنامہ بدستور مستحکم ہے اور مالی سال 2026 میں خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جبکہ متوقع سرکاری رقوم کی وصولی سے جون 2026 تک زرمبادلہ ذخائر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

مالیاتی شعبے کے حوالے سے بتایا گیا کہ پہلی سہ ماہی میں مجموعی اور بنیادی مالیاتی توازن سرپلس میں رہا، جبکہ اخراجات کا جی ڈی پی کے مقابلے میں تناسب گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہا۔ تاہم ایف بی آر کی ٹیکس وصولی جولائی تا نومبر کے دوران سال بہ سال بنیاد پر صرف 10.2 فیصد رہی، جس سے بقیہ سات ماہ میں مقررہ ہدف کے حصول کے لیے تیز رفتار اضافے کی ضرورت ظاہر ہوتی ہے۔

ایم پی سی نے زور دیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری جیسے ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ مالیاتی تحفظ مضبوط ہو اور عوامی سرمایہ کاری و سماجی ترقی کے لیے گنجائش پیدا کی جا سکے۔

بیان کے مطابق نومبر کے اختتام تک براڈ منی گروتھ بڑھ کر 14.9 فیصد ہو گئی، جبکہ ٹیکسٹائل، تھوک و پرچون اور کیمیکل جیسے شعبوں کی جانب سے قرض گیری کے باعث نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں میں جولائی تا نومبر 187 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ مالیاتی نرمی، بہتر صارف اعتماد اور مستحکم معاشی ماحول کے نتیجے میں بالخصوص گاڑیوں کے قرضوں کی صورت میں صارف فنانسنگ مضبوط رہی۔

ایم پی سی نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران مجموعی مہنگائی درمیانی مدت کے ہدفی دائرے میں رہی اور خوراک، توانائی اور بنیادی مہنگائی کے اجزا بتدریج قریب آ رہے ہیں، تاہم توقع ہے کہ موجودہ مالی سال کے اختتام پر مہنگائی عارضی طور پر ہدف سے تجاوز کرے گی اور مالی سال 2027 میں دوبارہ کم ہو جائے گی۔ اس منظرنامے کو عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، توانائی قیمتوں میں ممکنہ ردوبدل، مالیاتی بے ضابطگیوں اور گندم و دیگر غذائی اجناس کی قیمتوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال سے خطرات لاحق ہیں۔

حکومتی و ماہرین کا ردعمل

وزیراعظم شہباز شریف نے شرحِ سود میں کمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے کاروباری برادری اور عام آدمی کے لیے بہتری کی نوید قرار دیا اور معاشی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کم لاگت قرضوں سے مستفید ہوں گے۔

چیز سیکیورٹیز کے ریسرچ ڈائریکٹر یوسف ایم فاروق نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کم شرحِ سود سے ایکویٹیز کو سہارا ملے گا، قرضوں کی لاگت کم ہوگی اور حکومتی سودی اخراجات میں کمی آئے گی، اگرچہ 50 بیسس پوائنٹس کی کمی بذاتِ خود بڑی نہیں مگر یہ آئندہ پالیسی سمت کی واضح علامت ہے۔

اے کے ڈی سیکیورٹیز کے اویس اشرف کے مطابق شرحِ سود میں کمی سے مقامی صنعت کو تقویت ملے گی اور برآمدات مزید مسابقتی ہوں گی، جبکہ خوراک کی بہتر فراہمی سے تجارتی توازن پر دباؤ قابلِ انتظام رہے گا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اس فیصلے کو غیر متوقع قرار دیا، کیونکہ گزشتہ چار پالیسی اجلاسوں میں شرحِ سود برقرار رکھی گئی تھی۔ مئی 2025 کے بعد یہ پہلی کمی ہے، جب پالیسی ریٹ 11 فیصد پر رکھا گیا تھا، حالانکہ اس دوران مہنگائی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حالیہ جائزے میں مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت اور ڈیٹا پر مبنی مانیٹری پالیسی جاری رکھنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم صنعتی حلقے طویل عرصے سے مسابقت برقرار رکھنے کے لیے شرحِ سود میں کمی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین