بدھ, فروری 11, 2026
ہومنقطہ نظراضطراب میں گزرا ایک سال

اضطراب میں گزرا ایک سال
ا

ملیحہ لودھی

2025 میں پاکستان میں اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی، جن میں سے بعض مثبت تھیں جبکہ کئی نے تشویشناک اور منفی رجحانات کو مزید مضبوط کیا۔ سال کے ابتدائی حصے میں عوامی امیدوں میں جو اضافہ نظر آیا تھا، وہ سال کے اختتام تک ماند پڑ گیا۔ دسمبر میں جاری ہونے والے ایک ایپسوس سروے کے مطابق تقریباً 70 فیصد عوام کا خیال تھا کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔ سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ 82 فیصد جواب دہندگان کو معیشت پر کوئی اعتماد نہیں، حالانکہ حکومت نے قلیل مدتی میکرو اکنامک استحکام کے حصول میں کچھ پیش رفت کی تھی۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مسلسل محاذ آرائی نے شدید طور پر منقسم ملک کو غیر یقینی کیفیت میں رکھا، جس کے باعث سیاسی استحکام ایک خواب ہی رہا۔ آمرانہ طرزِ حکمرانی کی جانب واضح جھکاؤ دیکھنے میں آیا، جس نے جمہوری زوال کے رجحان کو مزید تقویت دی۔ سول و عسکری توازن مزید فیصلہ کن طور پر مؤخر الذکر کے حق میں منتقل ہو گیا، ایک ایسے حکومتی بندوبست میں جو محض ’ہائبرڈ پلس‘ ہونے سے بھی آگے نکل چکا تھا۔ داخلی سلامتی کی صورتحال بدستور چیلنج بنی رہی، جہاں عسکریت پسند سرگرمیوں اور دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سال کے سب سے اہم واقعات میں مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ تنازع شامل تھا۔ اس فوجی تصادم کے مؤثر انتظام، جس میں پاکستان نے اپنے حریف پر برتری حاصل کی، نے قومی فخر اور خود اعتمادی میں اضافہ کیا۔ اس کے نتیجے میں فوج کی مقبولیت اور ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دہشت گردی کے مبینہ ڈھانچے تباہ کرنے کے غیر مصدقہ دعوؤں کے باوجود بھارت اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ دہشت گرد حملے کے جواب میں فوجی ’حل‘ اختیار کرنا اس کے لیے الٹا ثابت ہوا، کیونکہ اس نے اپنے اقدامات کے نتائج کا غلط اندازہ لگایا۔ کمزور سفارت کاری اور غلطیوں کے باعث نئی دہلی کو عالمی سطح پر خاصا نقصان اٹھانا پڑا، جس کا فائدہ اسلام آباد کو ہوا۔

اس بحران نے پہلے ہی مسائل سے دوچار تعلقات کو مزید کشیدہ بنا دیا، اور دونوں جانب سے سفارتی روابط کی بحالی میں کسی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ تنازع سے اخذ کیے گئے بالکل متضاد اسباق نے غلط اندازوں کے خطرے کو بڑھا دیا اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی۔

2025 میں جمہوری زوال، فوجی بالادستی میں اضافہ اور سیاسی استحکام کی عدم دستیابی نمایاں رہی۔

اس کے داخلی سیاسی نتائج میں اختیارات کا توازن مزید سویلین قیادت سے فوج کی جانب منتقل ہونا، فوج کا حکمرانی میں زیادہ غالب کردار اختیار کرنا اور ایک ایسے ’نئے ماڈل‘ کا قیام شامل تھا جسے بہت سوں نے فوجی بالادستی کی نئی شکل قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں آئینی ترامیم کی گئیں جن کے ذریعے اعلیٰ فوجی قیادت کو وسیع تر اختیارات، مراعات اور تاحیات استثنیٰ دیا گیا۔ یہ تبدیلیاں 1970 کی دہائی کے بعد اعلیٰ دفاعی تنظیم کے ڈھانچے میں سب سے بڑی اور دور رس تبدیلیوں پر مشتمل تھیں۔

ان پیش رفتوں نے مخلوط حکومت کو، جس کی قانونی حیثیت 2024 کے متنازع انتخابات کے باعث پہلے ہی مشکوک تھی، مزید کمزور بنا کر پیش کیا۔ اسٹیبلشمنٹ کو اتنے وسیع اختیارات سونپ کر اس نے خود کو ملک کے نظامِ حکمرانی میں ایک ثانوی ’شراکت دار‘ میں تبدیل کر لیا۔ اس کی ساکھ اس کے بڑھتے ہوئے آمرانہ طرزِ عمل کے باعث مزید متاثر ہوئی۔ 2025 میں سب سے سنگین اقدام حکومت کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی پر حملہ تھا۔ اس اقدام نے آئین کی روح کو مجروح کیا اور عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کر کے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر ایک اور کاری ضرب لگائی۔

2025 میں جمہوری پسپائی کے دیگر کئی مظاہر بھی سامنے آئے۔ جمہوریت کے ہر اشاریے میں تنزلی دیکھی گئی۔ پارلیمان محض ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئی، اجتماع کی آزادی محدود کر دی گئی، اپوزیشن کو دبایا گیا، میڈیا کو کنٹرول میں رکھا گیا اور ڈیجیٹل اسپیس کو محدود کر دیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں پر دباؤ بڑھایا گیا جس سے ان کے کام میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ سیاسی احتجاج پر اکثر پابندیاں عائد کی گئیں اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف مشتبہ مقدمات درج کیے گئے۔ تاہم 27ویں ترمیم جیسے طاقت پر قبضے کے اقدامات اور جابرانہ کارروائیوں نے حکومت میں اعتماد پیدا کرنے کے بجائے اسے مزید بوکھلاہٹ اور عدم تحفظ کا شکار ظاہر کیا۔ حکومت نے جابرانہ ’کنٹرول‘ کو طاقت سمجھا، حالانکہ یہ دراصل اس کی کمزوری اور خود اعتمادی کے فقدان کی علامت تھا۔

دسمبر کے اوائل میں پنجاب اسمبلی کی جانب سے ایک قرارداد منظور ہونے کے بعد تحریک انصاف پر پابندی کے حوالے سے قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئیں۔ یہ پیش رفت فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس کے بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے دو سال سے زائد عرصے سے قید عمران خان کو ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ قرار دیا تھا۔ اگر ایسی پابندی عائد کی گئی تو یہ ایک تباہ کن اقدام ہوگا۔ تاہم دوسری جانب منقسم اور گروہی اختلافات کا شکار پی ٹی آئی حکومت کے لیے کوئی سنجیدہ چیلنج یا اپنے مطالبات منوانے کے لیے مؤثر دباؤ ڈالنے میں ناکام رہی۔

جہاں حکومت نے پیش رفت کی، وہ معیشت کو مستحکم کرنے، مہنگائی پر قابو پانے اور آئی ایم ایف پروگرام پر قائم رہنے کے حوالے سے تھی۔ تاہم یہ معاشی استحکام نازک رہا اور غیر پائیدار عوامل پر مبنی تھا، جیسے قرضے اور دوست ممالک کی جانب سے قرضوں کی ری شیڈولنگ، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کو بڑے بیرونی مالیاتی تقاضوں کا سامنا ہے، زرِ مبادلہ کے ذخائر کم ہیں اور قرضوں کا بوجھ بھاری ہے۔ حکومت کے معاشی اقدامات حقیقی اصلاحات سے کہیں کم تر رہے، جن میں ٹیکس نظام میں ساختی تبدیلیاں، اخراجات پر قابو، خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری اور توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کا حل شامل ہے۔

2025 میں استحکام سے ترقی اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آئے۔ سرکاری کوششوں اور متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کے باوجود سرمایہ کاری، بشمول براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، جمود کا شکار رہی۔ سرمایہ کاری کا جی ڈی پی سے تناسب محض 13 فیصد سے کچھ زیادہ رہا، جو درحقیقت گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم ہے۔ معاشی نمو بھی رکی رہی۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے حال ہی میں اعتراف کیا کہ پاکستان کا موجودہ ترقیاتی ماڈل کام نہیں کر رہا۔ ملک کم شرحِ نمو، کم سرمایہ کاری اور زیادہ قرضوں کے جال میں پھنسا رہا۔ ساختی مسائل سے نمٹے بغیر یہ صورتحال تبدیل نہیں ہو سکتی۔ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث ماہرینِ معیشت نے بڑھتے ہوئے بیرونی کھاتے کے خسارے سے آئندہ بحران کی وارننگ دی۔

گزرتے ہوئے سال میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد اور عسکریت پسند تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے اثرات دیگر علاقوں تک بھی پھیلے۔ شورش زدہ دونوں صوبے پورا سال بالترتیب ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی کے حملوں کی زد میں رہے۔ اگرچہ فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بعض نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، تاہم داخلی سلامتی کی مجموعی صورتحال تشویشناک ہی رہی۔ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں اضافے نے 2025 کو تقریباً ایک دہائی کا سب سے خونی سال بنا دیا۔ انسدادِ عسکریت پسندی کی حکمتِ عملی پر نظرثانی اور اس کی ازسرِ نو تشکیل کی شدید ضرورت محسوس کی گئی، مگر یہ کام تاحال نہیں ہو سکا۔

یہ رجحانات اور پیش رفتیں آنے والے سال میں درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہیں۔ واضح بات یہ ہے کہ جب تک بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، داخلی امن قائم نہیں ہوتا اور حکمرانی عوامی ضروریات اور امنگوں کو پورا کرنے کے بجائے ایک ایسی حکمران اشرافیہ کے مفادات کے گرد گھومتی رہے گی جو اپنی طاقت کے تسلسل میں ہی مصروف ہے، اس وقت تک سیاسی اور معاشی استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔

مصنفہ امریکہ، برطانیہ اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق سفیر رہ چکی ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین