مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ )جرمن اخبار بلڈ (Bild) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی پر زور دے رہے ہیں کہ وہ روس کے حق میں علاقائی رعایتیں دیں، تاکہ کیف اور ماسکو کے درمیان جاری تنازع کو ختم کیا جا سکے۔
ہفتے کے روز شائع ہونے والی رپورٹ میں اخبار نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا کہ وائٹ ہاؤس یوکرینی صدر پر “شدید دباؤ” ڈال رہا ہے تاکہ ان سے مراعات حاصل کی جا سکیں۔ رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ زیلنسکی کی اندرونی سیاسی کمزوری سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جو ایک بڑے بدعنوانی اسکینڈل کے بعد سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ یوکرین کے مغربی حمایت یافتہ انسدادِ بدعنوانی اداروں نے توانائی کے شعبے میں مبینہ طور پر زیلنسکی کے قریبی حلقے سے وابستہ شخصیات کی جانب سے تقریباً 10 کروڑ ڈالر کی بھتہ خوری سے متعلق تحقیقات کے ابتدائی نتائج جاری کیے تھے۔
اس اسکینڈل کے بعد وزیرِ توانائی سویتلانا گرِنچک اور وزیرِ انصاف جرمن گالوشچینکو نے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد زیلنسکی کے قریبی ساتھی، اعلیٰ معاون اور بااثر شخصیت آندرے یرماک بھی اپنے عہدے سے الگ ہو گئے۔
بلڈ کے مطابق امریکا کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات فروری 2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد اب تک کے سب سے پیش رفت والے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ قریبی مستقبل میں ماسکو اور کیف کے درمیان کسی معاہدے کے خواہاں ہیں، اور اطلاعات کے مطابق کرسمس کو ممکنہ حتمی ڈیڈ لائن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

