مانئڑئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)جنوبی کوریا اور امریکا نے جوہری اور ریڈیولوجیکل خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے سیول میں دو روزہ مشترکہ مشق شروع کر دی ہے، جس کا اعلان جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز کیا۔
ونٹر ٹائیگر IV کے نام سے ہونے والی یہ مشقیں 15 سے 16 دسمبر تک جاری رہیں گی، جن میں جنوبی کوریا کے دارالحکومت میں ریڈیولوجیکل دہشت گرد حملے کے ایک فرضی منظرنامے کی مشق کی جا رہی ہے۔ ان مشقوں کے دوران مرحلہ وار طور پر ردِعمل کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، مختلف اداروں کے کردار متعین کیے جا رہے ہیں اور ہنگامی حالات میں دوطرفہ تعاون کے طریقۂ کار کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ان مشقوں میں دونوں ممالک کے متعلقہ سرکاری اداروں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 120 حکام شریک ہیں۔ ان کا مشترکہ انعقاد جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ اور امریکا کی وزارتِ دفاع اور وزارتِ توانائی کر رہی ہیں۔
2017 میں پہلی بار منعقد ہونے والی ونٹر ٹائیگر مشقیں اب سیول اور واشنگٹن کے درمیان جوہری سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے تعاون کا ایک اہم ستون بن چکی ہیں۔ جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ مشقیں “جوہری اور ریڈیولوجیکل خطرات سے نمٹنے کی مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہیں اور جوہری سلامتی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہیں۔”
اگرچہ یہ مشقیں دہشت گردی کے منظرناموں پر مرکوز ہیں، تاہم یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی مشقیں ممکنہ جوہری یا ریڈیولوجیکل واقعات کی صورت میں تیز اور مربوط ردِعمل کو یقینی بنانے کے لیے نہایت ضروری ہیں، کیونکہ ایسے واقعات کم ہی پیش آتے ہیں مگر ان کے اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔
جنوبی کوریا کی جوہری حیثیت
جنوبی کوریا ایک غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست ہے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا فریق ہے۔ اگرچہ ملک کے پاس تکنیکی طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن وہ باضابطہ طور پر عدم پھیلاؤ کے اصولوں کا پابند ہے۔
تاریخی طور پر امریکا نے 1958 سے 1991 تک جنوبی کوریا میں جوہری ہتھیار تعینات کر رکھے تھے، تاہم ان کے انخلا کے بعد سیول نے امریکا کی توسیعی دفاعی ضمانت (Extended Deterrence) پر انحصار کیا۔ 2023 کے واشنگٹن ڈیکلریشن کے تحت جنوبی کوریا نے اپنے ہاں جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے فیصلے کی توثیق کی، جس کے بدلے امریکا نے مضبوط سکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ ان میں وقتاً فوقتاً جوہری ہتھیاروں سے لیس امریکی آبدوزوں کی تعیناتی اور نیوکلئیر کنسلٹیٹو گروپ کے ذریعے جوہری منصوبہ بندی میں قریبی شمولیت شامل ہے۔
امریکا کا فراہم کردہ “نیوکلئیر امبریلا” جنوبی کوریا کے دفاع میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جس کے تحت کسی بھی حملے کی صورت میں واشنگٹن اپنی تمام عسکری صلاحیتیں، بشمول جوہری ہتھیار، استعمال کرنے کا پابند ہے، جیسا کہ امریکا–جمہوریۂ کوریا کے باہمی دفاعی معاہدے میں درج ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی کوریا اگر سیاسی فیصلہ کر لے تو چند مہینوں سے لے کر چند سالوں کے اندر اندر اپنا جوہری ہتھیار تیار کرنے کی تکنیکی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگرچہ ملک میں اس وقت ہتھیاروں کے درجے کا فِسل مادہ تیار کرنے کی مقامی سہولیات موجود نہیں اور وہ اپنے سول ری ایکٹروں کے لیے افزودہ یورینیم درآمد کرتا ہے، تاہم اس کے پاس جدید جوہری توانائی کا شعبہ، ماہر جوہری سائنس دانوں کی بڑی تعداد اور جدید میزائل ٹیکنالوجی موجود ہے۔

