جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ کی ازسرِنو تشکیل کے اسرائیلی منصوبوں کیخلاف حماس کا انتباہ

غزہ کی ازسرِنو تشکیل کے اسرائیلی منصوبوں کیخلاف حماس کا انتباہ
غ

غزہ (مشرق نامہ) – حماس نے اتوار کے روز غزہ کی پٹی کو ازسرِنو تشکیل دینے اور فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی اسرائیلی کوششوں کے خلاف خبردار کیا ہے، جو اسرائیلی منصوبوں کے مطابق آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

اپنی 38ویں سالگرہ کے موقع پر جاری بیان میں حماس نے متنبہ کیا کہ غزہ کی پٹی کو دشمن کے منصوبوں کے مطابق ازسرِنو تشکیل دینے اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی کوششوں سے کسی بھی قسم کا تعاون ناقابلِ قبول ہے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام ہی اپنے حکمرانوں کے انتخاب کا واحد اختیار رکھتے ہیں اور اپنے معاملات خود سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

حماس کے مطابق ایک متحد فلسطینی حکمتِ عملی پر قومی اتفاقِ رائے کا حصول ہی اسرائیلی قبضے اور اس کے حامیوں کے ان منصوبوں کا مقابلہ کرنے کا واحد راستہ ہے، جن کا مقصد قومی قضیے کو ختم کرنا اور مشرقی القدس کو دارالحکومت بنانے والی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں دو برس سے جاری نسل کش جنگ کے دوران اسرائیلی قبضے نے غیر مسلح شہریوں کو مجرمانہ طور پر نشانہ بنانے کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا۔ مزید کہا گیا کہ غزہ، مغربی کنارے اور مقبوضہ القدس میں نسل کشی اور بھوک کے دو برسوں کے دوران صہیونی دشمن کی منظم اور دستاویزی جرائم وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوں گے۔

حماس نے عالمی عدالتِ انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت پر زور دیا کہ وہ اپنی قانونی کارروائیاں جاری رکھیں اور اکتوبر 2023 سے اب تک کے جرائم پر اسرائیلی قیادت کو جوابدہ بنائیں۔

جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کا اعادہ کرتے ہوئے حماس نے امریکا اور دیگر ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو معاہدے کی خلاف ورزیاں روکنے، سرحدی گزرگاہیں کھولنے، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کو یقینی بنانے، اور 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے لیے فوری امداد، رہائش اور تعمیرِ نو کے منصوبے نافذ کرنے پر مجبور کریں۔

بیان میں غزہ کی پٹی یا مقبوضہ سرزمین کے کسی بھی حصے پر کسی بھی قسم کی سرپرستی یا مینڈیٹ کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا گیا۔

حماس کے سربراہ خلیل الحیہ کے مطابق جنگ بندی کے تحت قائم کردہ بورڈ آف پیس کا مشن معاہدے کے نفاذ کی نگرانی، تعمیرِ نو کے لیے مالی وسائل کی فراہمی اور ان کی نگرانی تک محدود ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی استحکام فورسز کا کردار بھی صرف جنگ بندی برقرار رکھنے تک محدود رہے، بغیر اس کے کہ وہ غزہ کی پٹی کے اندر کسی ذمہ داری کو سنبھالیں یا داخلی امور میں مداخلت کریں۔

خلیل الحیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حماس غزہ کی پٹی کے تمام انتظامی امور ایک آزاد فلسطینی تکنوکریٹک کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے کا مطالبہ کیا تاکہ اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا ممکن بنایا جا سکے اور غزہ کی تعمیرِ نو کا آغاز ہو۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر کو نافذ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں دو برس سے زائد عرصے تک جاری اسرائیلی حملے رُک گئے، جن میں اکتوبر 2023 سے اب تک 70 ہزار سے زائد افراد، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی، جاں بحق اور تقریباً ایک لاکھ 71 ہزار زخمی ہوئے۔

تاہم اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزیاں کیں، جن کے نتیجے میں 10 اکتوبر کے بعد کم از کم 386 فلسطینی شہید اور 1,018 زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین