جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستاناقوام متحدہ کی رپورٹ کے بعد پی ٹی آئی کا عمران خان...

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بعد پی ٹی آئی کا عمران خان کی تنہائی ختم کرنیکا مطالبہ
ا

اسلام آباد (مشرق نامہ) – پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے تشدد کی رپورٹ کے بعد اڈیالہ جیل میں قید پارٹی بانی اور سابق وزیرِاعظم عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے مبینہ توہین آمیز سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی تنہائی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ صورتحال بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ایلس جل ایڈورڈز کی جانب سے جمعے کو جاری رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ عمران خان کی حراستی صورتحال غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کے زمرے میں آ سکتی ہے، جبکہ پاکستانی حکام پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی معیارات کی پابندی یقینی بنائیں۔

پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ نے اس کے دیرینہ مؤقف کی تصدیق کی ہے کہ عمران خان کو سیاسی انتقام کے تحت غیر انسانی، غیر قانونی اور توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پارٹی کے مطابق عمران خان کو روزانہ 23 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے، مسلسل سی سی ٹی وی نگرانی کی جاتی ہے، بیرونی دنیا سے عملاً کاٹ دیا گیا ہے، وکلا اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، مذہبی عبادات سے محروم رکھا گیا ہے اور بنیادی ضروریات تک رسائی بھی محدود ہے، جو جیل قوانین اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

پی ٹی آئی نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کے معیار کے مطابق 15 دن سے زائد کی تنہائی نفسیاتی تشدد کے مترادف ہوتی ہے، جبکہ 72 سالہ سابق وزیرِاعظم کئی ماہ سے اس کیفیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان سنگین طبی مسائل، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ اور ماضی میں قاتلانہ حملے کے نتیجے میں لگنے والے زخموں کے باوجود مناسب طبی سہولیات سے محروم ہیں، جو دانستہ ظلم کے مترادف ہے۔

پارٹی نے مطالبہ کیا کہ تنہائی فوری طور پر ختم کی جائے، حراستی حالات انسانی وقار اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق بنائے جائیں، ذاتی معالجین تک بلا رکاوٹ رسائی دی جائے اور عدالتی احکامات کے مطابق ملاقاتوں میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔ پی ٹی آئی کے مطابق یہ معاملہ اب محض ایک سیاسی قیدی تک محدود نہیں رہا بلکہ قانون، انصاف اور انسانی حقوق پر پاکستان کی ساکھ کا امتحان بن چکا ہے۔

دوسری جانب وزیرِاعظم کے معاون رانا احسان افضل نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کے ساتھ جیل قواعد اور جیل مینوئل کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سابق وزیرِاعظم کو اپنے بچوں سے رابطے، ورزش، معیاری خوراک اور مناسب جگہ سمیت ایسی سہولیات میسر ہیں جو بی کلاس قیدی سے بھی زیادہ ہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے قید ہیں، وہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں اور 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی صحت سے متعلق خدشات کا اظہار پی ٹی آئی اور اہلِ خانہ کی جانب سے بارہا کیا جا چکا ہے۔

عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے سنگین طبی مسائل چھپائے جانے کے خدشے کا اظہار کیا، جبکہ ان کی بہن عظمیٰ خانم نے ملاقات کے بعد بتایا کہ عمران خان جسمانی طور پر ٹھیک ہیں تاہم انہیں ذہنی اذیت کا سامنا ہے، زیادہ تر وقت سیل میں رکھا جاتا ہے اور باہر گزارنے کا وقت محدود ہے، جبکہ یہ ملاقات تقریباً 30 منٹ تک جاری رہی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین